میری پونجی — Page 22
عرض حال ہر انسان کی زندگی میں ، چاہے وہ تھوڑی ہو یا زیادہ وقت اپنا کردار ادا کرتا ہے۔کبھی سہانا بن کر کبھی ڈراؤنا بن کر نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے ، دکھ، خوشی غم ، فکر، انتشار، کامیابی ، ناکامی، سبھی کو لپیٹ میں لیکر چلتا ہے۔خاکسار کو اپنی عمر رائیگاں کے تہترویں سال میں بفضل خدا وہ کام کرنے کی توفیق حاصل ہوئی جو اپنے حالات اور کم مائیگی کی وجہ سے زندگی بھر نہیں کیا تھا۔کرنا تو۔دور کی بات کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں بھی کبھی اپنے تجربات وحوادث قلمبند کروں گی یا کرسکتی ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ بزرگوں کا ذکر خیر محفوظ کرنا مقصود تھا، اس نے یہ توفیق بخشی کہ اپنی زندگی کا ما حصل سادہ انداز میں پیش کر دوں۔لکھنے والے اپنے تعارف میں اپنے علمی مقام ومرتبے اور دیگر تصانیف کا ذکر کرتے ہیں۔میں بھی یہ رسم نبھاتے ہوئے بتا دیتی ہوں کہ میں سکول پڑھنے گئی ضرور تھی ، سات آٹھ جماعت تک کچھ نہ کچھ ضرور سیکھا ہوگا ، پر مجھے اپنا پاس ہونا کبھی یاد نہیں آتا۔ہاں پڑھنا میرا شوق رہا اُس وقت بھی جب میں نے ربوہ کی چاندنی راتوں میں چاند کی چاندنی میں پڑھا، پھر سرسوں کے تیل کے دیئے میں پڑھا اور پھر مٹی کے تیل کے لیمپ میں اور جب بجلی آگئی تو میری عید ہو گئی۔چونکہ میرے پڑھنے کا وقت ہمیشہ رات کا ہی ہوتا تھا کہ دن کو میں اپنی گھریلو ذمہ داریوں میں مصروف ہوتی اور رات کو پڑھنے کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔یہی میری زندگی کا ایک شوق رہا ہے۔قدرت کے کام ہیں، شادی ایک قابل قلمکار محترم بشیر الدین سامی صاحب سے ہوئی۔وہ لکھتے رہے میں دیکھتی رہی۔خود کچھ لکھنے کا خیال ہی نہیں آیا۔(22)