میری پونجی — Page 231
تو ان کی آنکھوں میں آنسو جاری تھے۔بی بی کی جب وفات ہوئی تو میری عمر تقریباً دس یا بارہ سال کی ہوگی اس لیے بہت کم باتیں یاد ہیں لیکن جو یا د ہیں وہ انکے لیے دعا بن کر رہ گئی ہیں۔ان کی وفات کے بعد ان کی سہیلیاں ملتیں تو بہت پیار کرتیں اور کہتیں کہ یہ ہماری فاطمہ کی نشانی ہے۔ہر ایک کے دل میں گھر کیا ہوا تھا۔میرے والد صاحب کا نام محترم نور محمد صاحب تھا۔گھر کے معاملات کا پورا بندو بست والدہ صاحبہ کے ہاتھ میں تھا اس لیے بے فکر تھے۔ویسے بھی خاموش طبع تھے۔بہت غریب پرور، ہر کسی پر ترس کھانے والے۔پیشہ جلد بندی تھا۔یہ کوئی ایسا پیشہ نہیں کہ اتنی دولت آ جائے کہ وہ حاتم طائی بن جائیں۔دل کے بہت حلیم تھے غم زدہ اور ضرورت مندوں کو دیکھ کر نہ صرف انکی مدد کرتے بلکہ بہت سے یتیم رشتہ داروں کو اپنے گھر لے آتے۔ان کی دیکھا دیکھی دوسرے ضرورت مند بھی آپ کے پاس آجاتے۔سب مل کر جو ہوتا گزارا کرتے اور بہت اچھا گزارا ہوتا رہا۔چونکہ خود بھی قبیل دار تھے اور دیگر ضرورت مندوں کے کام بھی آتے اس لیے کبھی بھی دولت کے انبار دیکھنے میں نہیں آئے اور نہ ہی کوئی جائداد بنا سکے۔لدھیانہ میں ایک آبائی گھر تھا اور اسی میں رہائش پذیر رہے۔ہمارے والد بہت سادہ طبیعت کے مالک تھے۔اکثر کرتہ کے بٹن بے ترتیب اور اوپر نیچے لگے ہوتے۔توکل کی انتہائی بلندیوں پر قدم رکھتے تھے۔بارہاد دیکھا کہ پاس کچھ بھی نہیں لیکن تو کل کیا اور اللہ تعالیٰ نے غیب سے ایسے سامان کئے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ کبھی نہیں بھولتا۔میں اور میرا بھائی احمد حسن اپنے والد کے ساتھ عید پڑھنے گئے۔واپسی پر سواری کے لیے پیسے بھی نہ تھے اور پیدل ہی کھیل کو د میں مصروف گھر کو آنے لگے۔مجھے لگتا ہے اس دن والد صاحب کی جیب بالکل خالی تھی۔لوگ اپنے بچوں کو قسم قسم کی چیزیں لے کر دے رہے تھے اور ہم خاموش والد صاحب کی طرف نگاہ جمائے ہوئے تھے۔انکے ذہن میں یہ تجویز آئی کہ اور تو میں انہیں کہیں لے جانہیں سکتا۔کہنے لگے آئیں آپ کو دریا کی سیر کرائیں۔(231)