میری پونجی

by Other Authors

Page 221 of 340

میری پونجی — Page 221

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امی نے اس کو کہنا شروع کر دیا کہ اب تم نہ آیا کرو، اپنے شوہر کو بھیجا کرو لیکن وہ خود ہی آتی رہی۔ایک دن جب کہ وہ بالکل آخری دنوں میں تھی تو ایک دن وہ ٹوکری اُٹھانے لگی مگر وہ اُس کو سنبھال نہ سکی اور ساری کی ساری ٹوکری اس کے اوپر گر گئی۔وہ پوری کی پوری گند سے بھر گئی۔اُس نے وہ سارا کوڑا اکٹھا کیا اور امی جان نے اس کی مدد کی۔وہ یہ الفاظ بار بار کہتی گئی کہ بی بی پیچھے ہو جاؤ آپکو گند لگ جائے گا۔امی جان نے اسی وقت میرے چھوٹے بھائی کو اس کے گھر بھیجا اور خود اس کو پانی سے نہلایا اور اپنے کپڑے نکال کر اس کو پہننے کو دیئے ، گرم گرم چائے بنا کر دی۔جب تک اس کے گھر سے اس کو کوئی لینے نہیں آیا اس کو آرام کروایا۔وہ کہنے لگی بی بی اگر میں کسی اور گھر میں ہوتی تو نہ جانے میرے ساتھ کیا سلوک ہوتا۔غیروں کے ساتھ اگر وہ اتنی محبت اور جانفشانی سے ملتیں تھیں تو اپنے تو پھر اپنے ہوتے ہیں۔وہ اپنے بہن بھائیوں سے بہت محبت کرتی تھیں۔ایسا ہی ایک واقعہ ہے کہ جب وہ لندن سے پاکستان ربوہ گئی ہوئی تھیں تو اُن کو اپنے بھائی کی بیماری کا علم ہوا جو قادیان میں درویش تھے ( ماموں جان محترم عبد الرحیم صاحب درویش ) امی جان اپنے بھائی کی بیماری کاشن کر رہ نہ پائیں اور اُن کی تیمارداری کیلئے قادیان چلی گئیں۔امی کے ساتھ اُن کا ایک بھتیجا اور بھتیجی بھی ساتھ گئے ، امی جان کچھ عرصہ قیام کے بعد واپس آ گئیں۔آنے کے کچھ ہی دنوں بعد میرے ماموں جان کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی اور وہ کٹر چیرٹی ہسپتال امرتسر میں داخل ہو گئے۔اب پاکستان سے اتنی جلدی کوئی نہیں جاسکتا تھا کہ ویزا اتنی جلدی ملنا ممکن نہیں تھا لیکن میری امی جان کے پاس برٹش پاسپورٹ تھا اس لیے اُن کیلئے کوئی مشکل نہیں تھی۔وہ فور وہاں امرتسر ہسپتال پہنچ گئیں۔پھر اُن کا ایک بھتیجا بھی وہاں اُن کے پاس پہنچ گیا۔امی بتاتی تھیں کہ میں دو ہفتے وہاں رہی ہوں جو بہت ہی مشکل ترین وقت تھا۔ایک تو پردہ کرنا، پھر کھانے کی مشکل صرف نان اور چنے لا کر کھاتے رہے۔کہتی تھیں کہ بے شک بہت مشکل تھا لیکن ساتھ ہی مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ میں نے اپنے بھائی کی تیمارداری کی اور (221)