میری پونجی — Page 213
آتیں۔ظہر کی نماز کے بعد مسجد مبارک میں ہی درس کیلئے جانا ہوتا، وہاں سے گھر آ کر شام کو افطاری کے بعد پھر مسجد مبارک میں تراویح کیلئے جانا ہوتا۔اس طرح خود بھی اور ہمیں بھی پوری طرح رمضان شریف کی برکات سے مستفیض کرتیں۔ویسے تو پورا رمضان شریف کا مہینہ ہی برکتوں اور رحمتوں کا ہوتا ہے لیکن آخری عشرہ کی دعائیں اور پھر آخری روزے میں درس قرآن کریم کی دعائیں اور آخری تراویح کی دعا ئیں خاص طور پر میں نہیں بھول سکتی۔محترم حافظ محمد رمضان صاحب کی تلاوت اور اُن کا آخری دن تراویح میں دعا کروانا، ہمارا وہ مسجد مبارک جانا اور وہاں رب العزت کے حضور فریادیں ، دعائیں، التجائیں اور گریہ وزاری ایک حشر برپا کیے ہوتا تھا۔اتنا درداتنا سوز و گداز اتنی دعا ئیں اتنی تڑپ اتنی آہیں کہ عرش بھی ہل جائے۔یہ سب برکتیں ہمیں ربوہ کی مسجد مبارک میں ہی ملتی تھیں۔ہماری امی جان خود بھی بہت دعائیں کرتی تھیں اور بزرگوں سے بھی دعائیں کرواتی تھیں۔اسی طرح ہمیں بھی یہ عادت ہو گئی کہ مسجد مبارک میں جمعہ کی نماز کے بعد ہم بہنیں حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کے گھر اکثر دعا کیلئے جاتے اور شام کو حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کے پاس بھی جاتے رہتے تھے۔قرآن مجید کی تو عاشق تھیں، خود بھی تلاوت کرتیں اور ہمیں بھی تلاوت کی تلقین کرتی رہتیں۔یہی وجہ تھی کہ گھر میں بچوں کو قرآن مجید پڑھانا شروع کیا اور بے شمار بچوں میں قرآن کریم کی نعمت بانٹی۔بچے بہت زیادہ ہوتے تھے اور پھر ہمیں بھی تلقین کرتیں کہ بچوں کو آپ بھی قرآن کریم کا سبق یاد کروائیں۔اس طرح کچھ نہ کچھ ہمیں بھی اس ثواب میں شامل رکھتیں۔بیماروں کی عیادت کرنا اپنا فرض سمجھتیں تھیں۔کسی کی وفات ہو ان کے بارہ میں فکر مند ہوتیں کہ اس نازک اور مشکل وقت میں اُن کی کیسے آرام اور دلجوئی کر سکیں گی اور اگر اُن کو کوئی مالی یا اور کوئی مشکل ہوتی تو اس کو پوری کرنے کی کوشش کرتیں۔ان کے کھانے وغیرہ کا پورا خیال رکھتیں۔کبھی کسی کو قرض دیتیں تو پھر اُن سے کبھی واپسی کا تقاضا نہ کرتیں۔اُن کے وقار کا خیال رکھتیں۔اکثر لینے والے خود ہی آ (213)