میری پونجی

by Other Authors

Page 212 of 340

میری پونجی — Page 212

کہ کئی دفعہ خالہ جی نے بھینس کا تازہ دودھ دوہتے ہوئے گلاس میں ڈال کر دینا کہ اے لو کڑیو! ( لڑکیو) تازہ دودھ پی لو اور ہم نہ نہ کرتے شوق سے پی بھی جاتے۔دوسری طرف کے ہمارے ہمسائے چوہدری غلام حسین صاحب اوور سیر اور اُن کی بیگم بہت اچھے تھے۔اُن بیچاروں کی ہمارے اس گھر میں آنے سے کچھ دیر پہلے ہی جوان بیٹی نسیم وفات پاگئی تھی۔چونکہ چوہدری غلام حسین صاحب اور انکی بیگم کے چھ بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔بیٹی کی وفات ہو گئی تو وہ بہت افسردہ رہتے تھے۔پھر وہ ہم بہنوں کو بھی اپنی بیٹیوں کی طرح ہی پیار کرنے لگے۔خاص طور پر میری چھوٹی بہن بشری کو تو وہ گود میں اٹھا کر لے جاتے ، سب اس کو بہت پیار کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ کو نہ جانے کیا منظور تھا کہ کچھ عرصہ کے بعد وہ ہماری خالہ جی جن کا نام مہر النساء تھا اور بہت صابر شاکر طبیعت کی حلیم پیار کرنے والی خاتون تھیں ، وہ بھی اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ان کا سب سے چھوٹا بیٹا اُس وقت چار سال کا ہوگا۔غرض ان کے گھر کا شیرازہ ہی بکھر گیا اور پھر کچھ عرصہ بعد خالوجی چوہدری غلام حسین صاحب کی بھی وفات ہو گئی۔اب ان کے گھر کوئی عورت نہیں تھی۔چھوٹے یا بڑے سب مرد ہی تھے۔ہماری امی جان نے ان بچوں کا بہت ساتھ دیا۔ہمارے لئے بھی وہ سب بھائیوں کی طرح تھے بلکہ ہم نے ان کو بھائی ہی مانا۔آج بھی بھائیوں کی طرح ہی دل میں قدر ہے۔ان بھائیوں نے بھی ہمارا بہت ساتھ دیا۔پنجابی کی مثل مشہور ہے ہمسائے ، ماں پیو جائے۔یہ مثال ہمارے گھروں پر پوری اترتی تھی۔امی ہمسائیوں کا بے حد خیال رکھتیں ، ہر روز کھانا اپنی ضرورت سے زیادہ بنا تھیں۔ہم بچوں کو تاکید تھی کہ آٹا اپنی ضرورت سے زیادہ گوندھو اور سچ تو یہ ہے کہ وہ جو ہم کھانا بناتے وہ ہر روز ہی ختم ہو جاتا۔ہمسائیوں کا کھانا اکثر ہمارے گھر ہی پکتا صرف وہ کھاتے اپنے گھر تھے۔پھر جب رمضان شریف آتا تو ہمیشہ دولوگوں کو روزے رکھواتیں۔کوشش کرتیں کہ سحری اور افطاری وقت پر تیار ہو۔رمضان کے دنوں میں سحری کے بعد نماز کیلئے ہمیں مسجد مبارک لے کر جاتیں اور وہاں سے بہشتی مقبرہ میں دعا کے بعد ہمیں واپس گھر لے کر (212)