میری پونجی

by Other Authors

Page 197 of 340

میری پونجی — Page 197

جیسے ہی حالات خراب ہوئے وہ سب سے پہلے لاہور پہنچ گئے۔اس طرح وہ ہر گاڑی کو جو بھی لئے پٹے لوگوں کی آتی وہ اُن میں ہمیں ڈھونڈتے تھے اور آج ہم انہیں مل گئے۔پارٹیشن کے وقت میں آٹھ سال کی تھی۔میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں اور ساتھ اپنی اماں اور چھا جان کا بھی کہ آج جو میری زندگی ہے وہ اللہ کے فضل کے بعد ان دو محترم ہستیوں کی وجہ سے ہے اُن دونوں نے جس جانفشانی اور پیار سے میری حفاظت کی تو میں آج زندہ ہوں ورنہ اُس وقت تو ہر کوئی اپنی جان بچانے کی فکر میں تھا۔قدم قدم پر بچوں اور بڑوں کی لاشیں پڑی تھیں۔میری اماں جن کے ساتھ میرا کوئی خونی رشتہ نہیں تھا وہ تو پنجاب کی رہنے والی بھی نہیں تھی۔اردوان کی زبان تھی چاہتیں تو اپنی جان بچا کر بھاگ جاتیں مگر انہوں نے اس پیار کے رشتے کی حفاظت کی اور اپنی جان سے بڑھ کر کی۔بچپن میں تو ایسی باتوں کا احساس نہیں ہوتا لیکن آج سوچتی ہوں تو ہر پل اپنی اماں کے لیے دعا گو ہوں۔میں اپنے چچا کیلئے بھی دل سے دعا کرتی ہوں کہ اس وقت صرف واحد یہ ہی ایک نشانی سلامت ہے اور مجھے بے حد پیارے ہیں۔( میری امی جان اور میری تین بہنیں اُن دنوں قادیان میں تھیں جن کو پھر میرے ابا جان خود جا کر لے آئے تھے) پارٹیشن کے بعد پھر ہماری ساری فیملی لاہور میں ایک ہی گھر میں اکٹھی ہوگئی۔وہاں سے پھر سب نے اپنے ٹھکانے ڈھونڈ لیے۔میری اماں، میں اور چا کراچی چلے گئے۔وہاں ایک سال بعد میرے تایا جی بھی افریقہ سے آگئے اور ساتھ میری اماں کا ویزہ بھی لیکر آئے۔میرے تایا جی نے آنے سے پہلے میری اماں کو نہیں بتایا تھا کہ وہ مجھے ساتھ لے کر نہیں جارہے بعد میں آکر بتایا پھر مجھے بھی نہیں بتایا کہ میں نہیں جا رہی۔میں ہر وقت دیکھتی تھی کہ میری اماں روتی رہتی ہیں، جب میں پوچھتی تو کوئی بہانہ بنا دیتیں۔میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اب جدائی کا وقت آ گیا ہے۔میں آج بھی اپنی اُس وقت کی آنکھ سے دیکھ سکتی ہوں کہ لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر ایک نو سالہ بچی پورا منہ کھول کر دھاڑیں مار مار کر رو رہی ہے اور اُس کی اماں ٹرین کے ڈبہ سے آدھی سے زیادہ باہر جھکی (197)