میری پونجی — Page 198
ہوئی دونوں ہاتھوں کو ہلا رہی ہے۔یہ نقشہ بھی میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتا۔جب بھی اُن سوچوں میں جاتی ہوں تو وہ کرب وہ دکھ میری زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔کسی کا کہا ہوا ہے جو لکھنے لگی ہوں۔میری اماں نے جاتے ہوئے کیا کہا ہوگا۔اتنا تو مجھے یاد ہے، کچھ اُس نے کہا تھا کیا اُس نے کہا تھا، یہ مجھے یاد نہیں ہے میں اپنی امی جان کے پاس آگئی جن کو میں بچی کہتی تھی۔شروع شروع میں تو ان میں سے کوئی بھی مجھے اچھا نہیں لگتا تھا، میں اکیلی گھر بھر میں راج کرنے والی ہر وقت اپنی بات منوانے والی کبھی کسی کو خاطر میں نہ لانے والی۔اب اتنے سارے لوگوں کو دیکھ کر مجھے گھبراہٹ ہوتی تھی ، مگر میرے ابا جان میری بہنیں امی جان سب میرا پورا خیال رکھتے۔میں اپنی اماں کی بگڑی ضدی بچی اُن میں کہاں فٹ ہو سکتی تھی۔نماز پڑھو، یہ کرو، ایسے کرو۔یہ سب پابندیاں میرے بس کی بات نہ تھی۔مجھے بہت غصہ آتا تھا، میں پوری پوری رات رو کر گزارتی تھی ،کھانا کھانا مجھے اچھا نہیں لگتا تھا۔مجھے یاد ہے امی ابا جان کو میری فکر بھی بہت ہوتی تھی کیسے اس کو کنٹرول کریں گے۔میری نسبت باقی میری بہنیں سعادت مند سبھی ہوئی تھیں۔پھر آہستہ آہستہ میری تربیت ہونے لگی ، سکول بھی جانا شروع کر دیا۔کچھ نہ کچھ فرماں بردار بھی ہو گئی۔احمدیت کی باتیں بھی کانوں میں جانے لگیں ، سکول بے شک جارہی تھی پڑھنا تو آتا ہی نہیں تھا جو میں پڑھتی۔میری امی جان کی محنت رنگ لانے لگی ، میری بہنیں بھی پیار کرتی تھیں۔اللہ نے ہمیں چار بہنوں کے بعد بھائی بھی دیا جس سے میری کافی حد تک توجہ بٹ گئی تھی۔بھائی کے آنے سے ہم سب بہت خوش تھے، میرا بھائی چھ ماہ کا تھا تو میرے ابا جان افریقہ چلے گئے۔میں بظاہر دیکھنے میں ٹھیک لگتی تھی ، مگر بہت کمزور ہوگئی تھی۔شاید میں اپنی اماں کی جدائی کو برداشت نہ کر پائی تھی۔اُدھر میری اماں کا بھی کچھ ایسے ہی حال تھا دو سال ہم نے بڑی مشکل سے گزارے کہ وہ واپس پاکستان آگئیں، آتے ہی مجھے لینے آگئیں۔اب میری امی نہیں (198)