میری پونجی — Page 193
مجھے بار بار مانگنے کی ضرورت نہ پڑے، ( مجھے یہ سمجھانا تھا کہ مانگنا بری بات ہے )۔کھانے کا اگر گرم لقمہ میرے منہ میں چلا گیا تو میرے منہ کے اندر پھونکیں مارنی۔سکول داخل کیا تو سکول میں جس کو میں پسند کرونگی اُس سے ہی پڑھنا ہو گا ( اب سوچتی ہوں تو حیران ہوتی ہوں کہ مجھے ایک لفظ یاد نہیں جو میں نے اپنی آٹھ سال کی عمر تک پڑھا ہو ) اُس زمانے میں کسی کے پاس چھتری نہیں ہوتی تھی سوائے میرے سکول سے گھر آنے کے وقت تک میری اماں دروازے میں بڑی بے تابی سے میرا انتظار کر رہی ہوتی کہ میری بچی پڑھائی کر کے آ رہی ہے، گھر آتے ہی مجھے پنکھے کی ہوا دینی ،غرض میں لاڈوں کی پلی کو کچھ سوچنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی کہ دنیا میرے گھر کے باہر بھی ہے۔میری امی مجھے پڑھانا چاہتیں یا کبھی اماں کو کہتیں کہ بھابی اس کو کچھ پڑھایا بھی کریں تو میری اماں کا جواب ہوتا رہنے دو بہو ساری زندگی پڑی ہے پڑھ لے گی۔ابھی کچھ نہ کہو میری بیٹی پر بوجھ نہ ڈالو کمزور ہو جائے گی۔میری امی جان کبھی قادیان یا فیروز پور سے آتیں تو مجھے ساتھ لیکر جانا چاہتیں ہم دونوں کے رونے دھونے کے آگے اُن کی کوئی پیش نہ جاتی۔اگر میں چلی بھی جاتی تو کچھ ہی دنوں بعد میری اماں آکر مجھے لے آتیں۔اب میں اپنی تائی اماں کی بہت بڑی کمزوری بن چکی تھی جس کے بغیر اُن کا جینا بہت مشکل تھا۔میری تائی اماں کا تعلق پانی پت کرنال سے تھا۔جب میری اماں وہاں اپنے والدین کے گھر مجھے لے کر جاتیں تو وہاں بھی مجھے اتنا ہی پیار ملتا جتنا کہ میری اماں کرتی۔بلکہ سچ بتاؤں تو مجھے یہ تو یاد نہیں کہ میری عمر کیا ہوگی۔مگر تھوڑا یہ ضرور یاد آتا ہے کہ کوئی گود سے نیچے ہی نہیں اتر نے دیتا تھا اور میں سارا سارا دن گودوں میں چڑھی رہتی ، اُس وقت تک اُس گھر میں میرے علاوہ اور کسی کا کوئی بچہ نہیں تھا، اس لیے سب کچھ میں ہی میں تھی۔وہاں کرنال میں اُن کے گھر سے دوسرے محلہ میں نواب زادہ لیاقت علی خان کا گھر تھا۔وہاں کوئی ہاتھیوں کا سالانہ میلہ ہوتا تھا جس میں وہ اپنے آس پاس والوں کو بھی بلاتے تھے۔ہاتھیوں کو (193)