میری پونجی — Page 182
مکتوب از محترمہ امتہ القدوس ( قوسی ) صاحبہ پیاری بہن صفیہ سامی صاحبہ! بسم اللہ الرحمن الرحیم اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا خط ملا۔آپ نے میری شاعری کے بارہ میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے سب سے پہ میں اس کیلئے آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔آپ نے اپنے جو حالات لکھے ہیں اور جس طرح ان کا مقابلہ کیا ہے، ایک مومن کی شان تو یہی ہے۔راضی ہیں ہم اُسی میں جس میں تیری رضا ہو زندگی میں پیچ وخم تو آتے رہتے ہیں۔اصل سہارا تو خدا کی ذات کا ہی ہوتا ہے۔انسان تو بے چارہ خود مجبور ہوتا ہے۔وہ کسی کا کیا سہارا بنے گا! کسی کے شعر کا ایک مصرعہ ہے۔مجھے سہارا بنانے والو، میں لڑکھڑا یا تو کیا کرو گے تو ایسے لڑکھڑاتے ہوئے سہاروں سے اُمید ہی کیوں رکھی جائے۔مگر یہ حقیقت ہے کہ انسان اپنے دوست احباب، عزیز واقرباء کا ساتھ چاہتا ہے۔یہ میں نے مانا کہ بوجھ اپنا ، اُٹھا کہ چلنا ہے سب کو تنہا پر پھر بھی احباب ساتھ ہوں گے، تو دل کو کچھ حوصلہ رہے گا محبتوں اور چاہتوں کا، یہ مان ہی تو متاع دل اگر بھرم یہ بھی ٹوٹ جائے، تو پھر مرے پاس کیا رہے گا ہے (182)