میری پونجی — Page 152
جہاں اب ابو ہیں وہاں بہت پولیس ہوتی ہے۔وکیل اپنا کام کر رہے تھے۔ایک اور بڑی مشکل یہ تھی کہ سامی صاحب کے بارے میں پاکستان میں اُن کی فیملی کو نہیں بتایا تھا کہ وہ کہاں ہیں۔اُن کے ضعیف والد پریشان ہو جائیں گے اور اباجی کی عادت تھی کہ اُن کو اپنے بیٹے کا ہر دوسرے دن خط ملنا چاہئے تھا اور سامی اُن کو لکھتے بھی تھے۔اب اُس کا یہ حل نکالا کہ سامی خط مجھے لکھ کر دے دیتے اور میں پوسٹ کر دیتی۔اباجی شکوہ کرتے کہ تم بدل گئے ہو۔یہ کیسے سوکھے سوکھے خط لکھتے ہو لیکن مجبوری تھی جو ہم اُن کو نہیں بتا سکتے تھے اور ادھر میں کس حال میں تھی ایک پیسہ بھی میرے پاس نہیں تھا۔جن کے گھر میں میں رہتی تھی وہ کپڑوں کے سٹال لگاتے تھے انہوں نے میری یہ مدد کی کہ میرے اپنے وہ کپڑے جو میری شادی کے تھے وہ اپنے سٹال پر رکھ کر نیچے اور مجھے کچھ پیسے ملے۔ساتھ ہی میں نے مشین پر سلائی کا کام شروع کر دیا جو کہ مجھے ذرا بھی نہیں آتا تھا لیکن کام والوں کی ڈانٹ ڈپٹ کھا کر کچھ نہ کچھ کما لیتی تھی۔صدیقی صاحب نے میری بہت مدد کی اللہ اُن کو جزائے خیر دے۔میرا پاسپورٹ بنوایا۔میری کوئی آمدن نہیں تھی، بچوں کے چائلڈ وظیفے لگوائے۔چھ ہفتوں کے بعد سامی صاحب ضمانت پر گھر آگئے۔ضمانت کے لیے میں اپنے پھوپھی زاد بھائی محمد اسماعیل صاحب کی ہمیشہ احسان مندر ہونگی کہ اُنہوں نے اپنا مکان ضمانت کیلئے دیا۔الحمد للہ۔میں اس دوران اپنی مسجد میں دعا کیلئے بھی برابر فون کرتی تھی۔اُن دنوں مولا نا عبد الوہاب آدم صاحب سے میری بات ہوتی تھی۔لیکن نہ وہ ہمیں اور نہ ہم انہیں جانتے تھے۔کیونکہ تعارف کا ہمیں موقعہ ہی نہیں ملا اور مصیبتوں میں مبتلا ہو گئے۔ہمیں بہت اچھے لوگوں کی مددملی۔ضمانت پر سامی گھر بھی آگئے مگر ابھی مقدمہ کی تلوار سر پر لٹک رہی تھی۔شکر الحمدللہ کہ اب ہم پوری فیملی اکٹھے تو تھے اور ہر مشکل کو آسانی سے سہنے کی طاقت بھی رکھتے تھے۔مشکل یہ بھی تھی کہ جب ہم پاکستان سے آئے تھے تو پوری طرح کشتیاں جلا کر آئے (152)