میری پونجی

by Other Authors

Page 131 of 340

میری پونجی — Page 131

کرتے تھے۔مکرم مرزا عبدالرحیم بیگ صاحب قائد تھے۔خاکساران کے ساتھ معتمد تھا۔اس لحاظ سے انتظام اور رابطہ کے لیے فرائض میں اور بھی اضافہ ہو جاتا تھا۔حضرت صاحب کا قیام چونکہ کراچی شہر سے دور دراز علاقہ میں تھا اور اس دور میں آمد رفت کے زرائع بھی محدود تھے۔شاذ شاذ ہی احباب کے پاس اپنی سواری ہوا کرتی تھی۔حسب معمول اپنے دنیاوی کام کاج سے فارغ ہو کر اپنے ایک رفیق مکرم عبدالمجید بٹ صاحب برادر اصغر مکرم عبد الحکیم اکمل صاحب مربی سلسلہ ہالینڈ کے ہمراہ ہم رہائش گاہ واقعہ مالیر کی طرف جارہے تھے کہ محسوس کیا کہ اس شاہراہ پر دونوں جانب فاصلے فاصلے پر پولیس کے سپاہی تعینات ہیں۔حیران ہورہے تھے کہ عام طور پر اس قسم کے حفاظتی انتظام حکومت کے سر براہان کے لیے ہی مخصوص ہوتے ہیں ، جوں جوں ہم آگے بڑھتے گئے۔حفاظتی انتظامات رہائش گاہ تک پھیلے ہوئے پائے۔پولیس کے منتظمین اس حویلی کے اندر باہر بھی مستعد نظر آئے۔خدام بھی چاک چو بند تھے۔حضرت صاحب کی رہائش اوپر کی منزل پر تھی۔ملاقات کے لیے نچلے حصے میں ایک کمرہ مخصوص تھا۔عام ، سادہ سا کمرہ جس میں کرسیاں بچھی تھیں۔مکرم عبد الرحیم درد صاحب بھی اس موقع پر اپنی دانشمندیوں اور فراستوں کو اپنی سادگی میں چھپائے چھپائے پھرتے تھے۔بوجہ علالت یہ پہلا موقع تھا کہ حضرت صاحب کو اوپر کی منزل سے نیچے لایا گیا۔آپ سفید عمامہ سفید قمص شلوار کوٹ زیب تن فرمائے ہوئے تھے اور حسب معمول ہاتھ میں چھڑی تھی۔حالانکہ چند روز قبل جب جماعت نے صدر ریلوے اسٹیشن پر استقبال کیا تھا تو آپ شب خوابی کے لباس میں تھے۔کمبل سے گھٹنے ڈھکے ہوئے تھے ہسر پر گرم سکارف تھا جو کانوں کو ڈھانپتے ہوئے نیچے تک سرک گیا تھا۔آپ کو کار تک لیجانے کے لیے وہیل چیئر لائی گئی تھی۔چند لمحے گزرے تھے کہ جناب غلام محمد صاحب گورنر جنرل پاکستان کی سیاہ فلیگ کا راس حویلی میں داخل ہوئی۔گیٹ پر موجود خدام نے سیلوٹ کیا جس کا انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے جواب دیا۔کار رض (131)