میری پونجی

by Other Authors

Page 121 of 340

میری پونجی — Page 121

الغنى غنى النفس حیران کن انکشاف یہاں مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ الفاظ یاد آتے ہیں جہاں آپ فرماتے ہیں: نورالدین کے بھیرہ میں کچھ مکانات تھے اور کچھ زمینیں ، اب انہیں یہ بھی علم نہیں ہے کہ وہ مکانات یا زمین کس کے پاس ہیں اور میں بھی کہ نہیں ؟ یہ ایمان اور تقویٰ اللہ تعالیٰ صرف اپنے خاص بندوں کو ہی عنایت فرماتا ہے۔“ (حیات طیبہ ) یہ ہی بات صادق آتی ہے اِن دونوں بزرگوں پر۔اماں جی اور اباجی کے بارے میں تو میں پہلے سب لکھ چکی ہوں کہ کیسے دونوں بیعت کے بعد اپنے تمام رشتہ داروں اور مال اسباب کو چھوڑ کر خالی ہاتھ قادیان آگئے تھے۔اماں جی مرحومہ کی وفات پر اُن کے میکے سے اُن کی بہن اور بھائی آئے تھے۔اماں جی کی وفات کے بعد بھی چنیوٹ میں میرے سسرال والوں سے ملنا ر ہا۔چونکہ اماں جی کی فیملی زمیندار تھی اس لیے وہ اکثر اپنے باغوں میں سے آم اور کنوں اور موسمی فروٹ لاتے رہتے۔ابا جی کے ایک بھائی ڈاکٹر سراج الدین صاحب (مرحوم) الحمد للہ احمدی تھے مگر باقی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے لیکن پھر بھی اُن چاز اداور تایا زاد بھائیوں کے ساتھ کبھی کبھار ملنا جلنا تھا۔2007ء یا 2008ء کا واقعہ ہے کہ ایک دن میرے جیٹھ ناصر بھائی جان جو اپنی فیملی کے ساتھ ریٹائرمنٹ کے بعد چنیوٹ میں رہتے تھے ، فرماتے ہیں کہ : ایک دن گرمیوں کی ایک شام کسی نے ہمارا دروازہ کھٹکھٹایا۔کہتے ہیں آنے والے سے آنے کا سبب جب پوچھا تو انہوں نے کہا آپ مجھے نہیں جانتے میں (121)