میری پونجی

by Other Authors

Page 111 of 340

میری پونجی — Page 111

پھر لوٹ آتیں۔سب کے لیے اُس چھوٹے سے ٹینٹ کے دروازے کھلے ہوتے۔تمام پھل، ڈرائی فروٹ اور مہمان نوازی کا تمام سامان ساتھ ہوتا۔غرض یہاں بھی بڑوں بچوں کی تمام ضروریات پوری کرتی رہتیں۔بے شک ہم چنیوٹ میں رہتے تھے مگر ربوہ ہم سے دور نہیں تھا بلکہ ابا جی کا تو روزانہ کا معمول تھا کہ وہ چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے ربوہ جاتے اور ہر جمعہ کو اماں جی اور ابا جی جمعہ پڑھنے کے بعد بزرگوں کو ملتے اور بیماروں کی بیمار پرسی کرتے۔اُسی لحاظ سے ربوہ سے جو بھی خرید وفروخت کے لیے آتا وہ اماں جی کا مہمان ضرور ہوتا اور یہ سب مہمان بن بلائے ہوتے کسی کی بھی آنے سے پہلے اطلاع نہ ہوتی۔مالی لحاظ سے کافی تنگی تھی مگر اماں جی آنے والے مہمانوں کے لیے ہر وقت تیار رہتی تھیں اور ہمارے ابا جی کو جو بھی احمدی ملنے والا یا جانے والا بازار میں مل جاتا اُن کو دعوت دے کر گھر لے آتے۔مسرت کہتی ہیں کہ : ”بھابی ! اماں جی مرحومہ کی دریا دلی کہاں تک بتاؤں۔بے شک اپنے گھر میں تنگی تھی مگر جب دیکھا کہ بیٹوں کے گھروں میں بھی تنگ دستی ہے تو بڑے بیٹے کے دو بچوں راشدہ اور اُس کے بھائی طہ کو اپنے پاس رکھا۔یہاں تک کہ راشدہ کی تو بی اے تک تعلیم اور شادی بھی کی اُس کو اپنی بیٹی کی طرح ہی رخصت کیا۔طہ کو بھی میٹرک تک تعلیم دلوائی اور اسی طرح دوسرے بیٹے کے بھی دو بچوں کی پرورش کا ذمہ لیے رکھا۔پوتے پوتیوں کے ساتھ والہانہ پیار کرتی تھیں۔پانچ بیٹوں اور دو بیٹیوں کی ماں نے اپنی بہوؤں اور دامادوں کو بھی جی بھر کے پیار اور دعائیں دیں۔ایک پوتی کی اپنے ہاتھوں شادی کی۔سب کو اپنے گھروں میں خوشحال دیکھ کر گئیں الحمد للہ۔موصیہ تھیں بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم اُن کے نقش (111)