میری پونجی — Page 107
کتاب کے بارے میں بتائی گئیں میں دل میں بہت شرمندہ تھی کہ کیا بتاؤں کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی جو وہ بتا رہی ہیں۔ایک دفعہ میں کسی کے گھر گئی۔ساتھ والے گھر سے حضرت خلیفہ مسیح الثانی کے تقریر کرنے کی آواز آ رہی تھی۔میں سُن کر گھر آگئی۔اُس وقت تک میں حضور کو نہیں جانتی تھی اور نہ احمدیت کے بارے میں کچھ علم تھا۔گھر آکر بتایا کہ وہاں کوئی مولوی مانگنے والا آیا ہوا تھا۔تمہارے اباجی نے مجھے سمجھایا کہ ایسے نہیں کہتے وہ ہمارے حضور ہیں۔میری ان کم علمیوں کی وجہ سے میں کافی دل برداشتہ ہوگئی اور چوری چوری قاعدہ پڑھنا شروع کر دیا۔ایک دن اچانک تمہارے اباجی آگئے۔اُس وقت جب کہ میں قاعدہ پڑھ رہی تھی میں تو ڈر گئی کہ جانے اب یہ کیا کہیں گے مگر تمہارے ابا جی بہت خوش ہوئے۔پھر آہستہ آہستہ کچھ دین کی بھی سمجھ آنے لگی اور جب میں نے احمدیت قبول کر لی تو میری دنیا ہی بدل گئی۔اماں جی کہتی ہیں کہ تمہارے اباجی نے حضور خلیفہ المسیح الثانی کو کھانے کی دعوت دے دی۔میں، جو کھانا بنانے میں بالکل اناڑی تھی ،مشکل میں پڑ گئی۔اللہ کا نام لیا۔کباب بنانے کیلئے قیمہ منگوایا۔پانی سے دیچی بھری اور اُس میں قیمہ ڈال کے پکنے کو رکھ دیا۔انتظار کرتی رہی کب پانی خشک ہو اور کباب بناؤں۔پانی بھی خشک ہو گیا بہت کوشش کی کہ کباب بنا سکوں مگر کامیاب نہیں ہوئی۔آخر مائی راجو کو مدد کے لیے بلایا مگر کباب پھر بھی نہ بنے تو مائی راجو کی مدد سے دوبارہ بازار سے چیزیں منگوا کر کھانا تیار کیا اس طرح میں نے حضور کی پہلی دعوت کی۔پھر وقت کے ساتھ ساتھ میں تھوڑی بہت سمجھدار بھی ہو گئی اور بچوں کی ماں بھی بن گئی۔آج بھی وہ زمانہ یاد کرتی ہوں تو تمام گزرے منظر آنکھوں کے آگے آتے ہیں۔میری پہلی تربیت کرنے والی محترمہ بیگم جی صاحبہ تھیں۔اُنہوں نے قرآن مجید ناظرہ، اردو اور دیگر دینی باتیں سکھائیں۔جب تمہارے ابا جی سردار مصباح الدین صاحب مبلغ ہو کر لندن چلے (107)