میری پونجی — Page 106
دیکھا۔لڑکیاں ایک دوسری کو کہنے لگیں کہ ہوسکتا ہے یہ تمہیں لینے آیا ہو۔وہ کہتی ہیں میں نے پہچانا نہیں جب انہوں نے ہمارے ہی گھر کا پتہ پوچھا تو میں چھپ گئی کہ وہ میرا ہی مکلاوہ لینے آئے تھے۔جب میں اپنے سسرال میں تھی تو ایک ہندو عورت آئی اور اُس نے پوچھا کہ تمہارا خاوند کہاں رہتا ہے۔جب میں نے بتایا کہ وہ قادیان پڑھنے گیا ہوا ہے تو وہ بہت حیران ہوئی اور کہا تم وہاں نہ جانا کہ جو وہاں جاتا ہے وہ اپنا مذہب بدل لیتا ہے۔میں نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا اور کہا میری توبہ میں کبھی اپنا مذ ہب نہیں بدلوں گی اور نہ ایسی جگہ جاؤں گی۔اماں جی کہتی تھیں کہ ابھی تمہارے اباجی کی تعلیم مکمل بھی نہیں ہوئی تھی تو وہ مجھے لینے آگئے مگر گھر والے مجھے کسی صورت قادیان بھجوانے کے لیے تیار نہیں تھے۔ایک تو گھر والے میرے ساتھ پیار بہت کرتے تھے دوسرے اُن کو ڈر تھا کہ میں وہاں جا کر مذہب نہ بدل لوں۔جب تمہارے ابا جی نے مجھ سے پوچھا ئیں تو دل سے تیار تھی فورا ہاں کر دی۔گھر والوں نے دھمکی دی کہ اگر جانا ہی ہے تو گھر سے کوئی سامان آپ اپنے ساتھ لیکر نہیں جاسکتے۔میں نے سارا زیور اور اپنے تمام کپڑے گھر والوں کو واپس کر دیے اور کہا جہاں میرا شوہر ہو گا وہاں میں رہونگی۔ہم میاں بیوی خالی ہاتھ اسٹیشن آگئے میرے سر ٹرین تک آئے کہ ہم اپنا ارادہ بدل لیں لیکن اب ہمیں کوئی نہیں روک سکتا تھا۔جب میں قادیان پہنچی تو پہلے پہل میں مکرم ملک صلاح الدین صاحب ایم اے کے مکان میں ٹھہری۔اب میری ذمہ داریوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔گھر داری کیا ہوتی ہے اور کھانا کیسے بنتا ہے، مجھے بالکل نہیں آتا تھا۔میں صرف ساگ بنا سکتی تھی اُس کے علاوہ مجھے کچھ نہیں آتا تھا۔پڑھائی بھی میں نے کوئی نہیں کی ہوئی تھی صرف قرآن مجید کے پندرہ سپارے پڑھی ہوئی تھی۔ایک مرتبہ محمد حسن صاحب کی بیگم نے ہماری دعوت کی۔وہ کافی پڑھی لکھی اور ہنر مند بی بی تھیں۔اُن کی اپنی لائبریری تھی۔جب میں اُن کے گھر گئی انہوں نے سمجھا کہ شائد میں بھی کوئی پڑھی لکھی ہوں جبکہ میں ایک لفظ بھی نہیں جانتی تھی۔وہ اپنی لائبریری دکھاتی رہیں اور ایک ایک (106)