میری پونجی — Page 77
”میرے میاں کے وہ بڑے پیارے محب اور رفیق رہے ہیں۔“ آپ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی شادی کی عمر کو پہنچ گئی تھی تو مجھے گرامی نامہ لکھا کہ: " آپ کے بھائی کی یہ بی بی میرے پاس امانت ہے دعا کریں کہ میں اس امانت سے سبکدوش ہو جاؤں“ اللہ اللہ ! خدا نے انہیں ”وخت کرام قرار دیا۔ان کے وجود سے ہم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نزول رحمت و برکات کا سلسلہ جاری تھا۔آہ ، حضرت اقدس کے وجود کا ایک لخت ہمارے اندر موجود تھا۔آج اسے بھی اللہ تعالیٰ نے بلا لیا ہے۔اچھا! بلانے والا خالق و مالک۔طوعاً کرہاً اس سے موافقت ہی ہمارا شیوہ بنتا ہے۔وما توفیقی الا بالله جب کبھی ربوہ آنے پر پسر عزیز عبد القادر سے بھی ملنا ہوا تو اس نے آپ کے دل میں مجھ فقیر کی یاد کا اظہار کرنے کی مجھے اطلاع دی اور گو جسماً آپ سے فاصلہ پر رہنا ہی مقدر ہوتا تھا۔لیکن دل میں ہمیشہ آپ کو اپنے دل اور نظر میں سامنے پائے رکھا ہے۔آپ کیلئے دعا کی توفیق بھی پائی۔جلد آ رہا ہوں۔خدا حافظ۔والسلام خاکسار شفیق دعا گو مصباح الدین نوٹ : آپ کے بنگلہ کی روڈ کا نام ذہن سے اتر چکا ہے۔عزیز میاں مبارک ( حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب ) کے خط میں یہ خط بھیج رہا ہوں کہ وہ آپ کو پہنچا دیں۔مکرر آپ کو عزیز سے میرا حال معلوم ہو چکا ہے۔بس صاحب فراش ہوں دعا کریں۔(77)