میری پونجی — Page 60
ان کے پاس کوئی پیسہ ہوتا پھر بھی نہ جانے کیسے ربوہ پہنچتے اور ہر جنازہ میں شرکت کرتے اور ہر تدفین میں حصہ لیتے۔ربوہ میں ان کے جاننے والے اس دور کے مکیں خوب گواہ ہونگے جنہوں نے سردار صاحب کو اکثر ربوہ کی دھول میں تیز تیز چلتے دیکھا ہوگا۔تیز چلنا ان کی عادت تھی۔یہ سب کچھ کیا تھا ؟ یہ خلافت اور مقام خلافت کی محبت تھی جو انہیں اس صحرا نوردی پر اکساتی رہتی تھی۔وہ اپنے دل میں اسی لیلی کو چھپائے اس ریگزار میں خاک چھاننے پر مجبور تھے۔حق مغفرت کرے، عجب آزاد مرد تھا اکثر ہماری والدہ مرحومہ انہیں یہ فرمایا کرتی تھیں کہ اپنی صحت کا خیال کریں اور اس عمر میں اس طرح اکیلے گھر سے نہ نکلا کریں۔لیکن ان کی لگن کو کون جان سکتا تھا اور کون اُن کو منع کر سکتا تھا۔ہماری والدہ مرحومہ اپنی محبت میں یہ کہتی رہیں لیکن ان کا اپنے روزمرہ کے اس معمول میں کوئی فرق نہ آیا۔ایک روز حسب معمول محترم ابا جی جمعہ کی نماز کیلئے چنیوٹ سے ربوہ تشریف لے گئے ، ربوہ کے اڈہ سے اتر کر پیدل چلنے لگے۔شدید گرمی تھی اور بلا کی تپش، ایک دوست نے انہیں مسجد اقصیٰ جاتے ہوئے دیکھا تو اپنی سائیکل پر پیچھے بٹھالیا، جو نبی وہ مسجد اقصیٰ کے قریب پہنچے تو پتھریلی زمین پر اتنی بری طرح گرے کہ کولھے کی بوڑھی ہڈیاں چکنا چور ہوگئیں۔لہذا ان کو فیصل آباد لے جانا پڑا ان کا آپریشن ہوا لیکن اس کے بعد وہ اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہو سکے۔ربوہ کے شب و روز کے حوالہ سے ان کی دلچسپیاں اُن کے شوق ، ان کی فدائیت کے رنگ، ان کے جذبے اور والہا نہ پین دیوانگی کی حد تک ان میں کارفرما تھے۔جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ربوہ کا افتتاح فرما یا اس تاریخی موقع پر انہوں نے اپنے کنبے کو خاص اہتمام سے اکٹھا کیا اور تانگہ کی سواری سے ربوہ پہنچے اور افتتاحی تقریب میں شمولیت کی سعادت پائی۔اسی طرح جب مسجد مبارک کاسنگ بنیاد رکھا جا رہا تھا اس موقع پر بھی سارے کنبہ کو ساتھ لیا اور دعا میں شامل ہوئے۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے اس بابرکت (60)