میری پونجی — Page 52
عظیم ہوئے وہ اس عاجز کے شاگرد تھے ان میں سے جو کوئی بھی رخصت پر آتا تو اظہار کرتا کہ استاذ مکرم دینی اور عربی تعلیم ان علاقوں میں جو کام آئی سو آئی آپ سے چار حروف انگریزی کے جو پڑھے ہوئے تھے ان سے بہت مدد ملتی رہی۔سواللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ ان کو عطا کئے جانے والے اجر میں سے اس عاجز کو بھی کچھ حصہ عطا ہو 66 جائے گا۔انشاللہ تعالی۔“ ہوٹل جامعہ احمدیہ کے سپر نٹنڈنٹ محترم سردار مصباح الدین صاحب پہلے سپر نٹنڈنٹ ہوسٹل جامعہ احمد یہ مقرر ہوئے۔بعد میں 1947ء کے عرصہ میں شیخ محبوب عالم صاحب خالد ،صاحبزادہ مولوی ابوالحسن قدسی اور مولوی خان ارجمند خان صاحب مقرر ہوئے۔مسجد اقصیٰ میں ذکر حبیب کے ہفتہ وارا جلاس (بحوالہ تاریخ احمدیت جلد پنجم صفحہ 108) 1932-33ء میں محترم سردار صاحب کو مسجد اقصیٰ قادیان میں ذکر حبیب کے موضوع پر ہفتہ وار اجلاس منعقد کروانے کی توفیق ملی۔ان اجلا سات میں جن خوش نصیب بزرگوں نے سید نا حضرت اقدس مسیح موعود کی زیارت اور صحبت کی سعادت پائی ہوئی تھی ان میں سے کسی ایک کو باری باری دعوت دی جاتی کہ وہ جلسہ میں آکر حضرت اقدس کی صحبت کی باتیں حاضرین جلسہ کو سنائیں۔اس سرور بخش ذکر سننے والوں سے مسجد اقصیٰ کا صحن بھر جاتا۔اس صحبت روحانی کے انوار سے بہرہ ور ہونے سے پہلے محترم سردار صاحب موضوع سخن کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ذکر حبیب حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا دیا ہوا عنوان ہے۔اس ذکر پر ان کے بیان و کلام میں جو دل آویزی تھی وہ انہی سے مخصوص تھی لیکن۔گر چه تفسیر زباں روشن است لیک حسن بے زباں روشن است (52)