میری پونجی — Page 53
ترجمہ: اگر چہ (اسکی) زبان تو روشن بیان ہے ہی لیکن (اسکا) بے زبان حسن تو تابناک ہے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے بیان میں جو دل آویزی تھی وہ محض انکے حسن بیان کی وجہ نہ تھی بلکہ خود حضرت اقدس مسیح موعود کا حسن و جمال ایسا تھا کہ جس کی بھی نگاہ پڑ جائے وہ متوالا ہی ہو کر رہ جائے۔ظاہر ہے وہ ساقی تو اب جا چکا تھا لیکن مے کی طلب تو میخواروں کی نہیں مٹی تھی۔لاریب کیف و سرور بڑھانے کیلئے ساقی و ساغر کا التزام ضروری سہی لیکن میخواروں کیلئے مقصود بالذات نہیں اسے تو غرض مے سے ہے، بس وہ طلب پوری ہو جائے تو ساقی وساغر بدل جانے سے بھی کیف وسرور میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ذکر حبیب کی اس مجلس کے انوار و برکات کے حوالہ سے اس کیفیت کے اظہار میں رقم طراز ہیں کہ دیکھئے ابھی ظاہر ہوگا کہ اس نئے پیمانہ کے گردش میں آنے پر کیف و سرور سے بے خودی کا یہ عالم ہوگا کہ منہ کو لگاتے ہی کہہ اٹھیں گے۔کیا بھول ہوئی ہم سے، ہم منہ کو لگا بیٹھے آنکھوں یہ لگانا تھا پیمانہ کو کیا کہیے ان روح پرور مجالس کے ذکر میں اس صحبت کی باتوں کا حسن بھی اسی صورت کا ہے جیسے کہ قدرتی مرغزار اور لالہ کا ہوتا ہے کہ اس میں سبزہ اور پھولوں کے جدا جدا رنگ نہیں ہوتے۔سو اس صحبت کی باتوں کی بہار آفریں گلگشت میں جہاں جہاں نظر پڑے گی یہی کیفیت پائی جائے گی۔از سر تا قدم ہر کجا کہ مینگرم کرشمہ دامن دل میکشد که جاں ایں جا است ترجمہ: سر سے پاؤں تک جہاں بھی دیکھتا ہوں دامن دل کا اشارہ کھینچتا ہے کہ محبوب یہیں اسی وجود میں ہے۔(53)