میری پونجی

by Other Authors

Page 208 of 340

میری پونجی — Page 208

ایسے بھی ہوتا کہ عورتیں ہمیں نیند سے اُٹھا کر پانی لینے آجاتیں مگر میری امی کبھی انکار نہ کرتیں۔ثواب کمانے کا موقعہ تو وہ جانے ہی نہیں دیتی تھیں۔ان ساری باتوں کے باوجود یہ گھر بھی ہماری منزل نہ تھا۔خالہ جی سائرہ اور ان کے بچوں کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہو گئے۔ان کے اور ہمارے گھر کے درمیان ایک چھوٹی سی دیوار تھی۔جیسے کچے گھر تھے ویسے ہی دیوار بھی کچی مٹی کی بنی ہوئی تھی۔خالو جی شیخ محمد عبد اللہ صاحب کا لکڑی کا ٹال گھر کے سامنے ہی تھا۔( اللہ تعالی انہیں جنت نصیب کرے۔ہمارا اور ہمارے گھر کا بھی خیال رکھتے کہ گھر میں کوئی مرد نہیں ہے۔کوئی ان کو نقصان نہ پہنچائے) ان دنوں ویسے بھی بچھی جلائی جاتی تھی۔بیچنے والے اونٹوں پر پیچھی لے کر آتے۔ہماری امی کی عادت تھی کہ وہ جب چیز لیتیں تو اکٹھی لے لیتیں۔ربوہ کے آس پاس کے گاؤں سے دودھ گھی اور گندم بھی لوگ لے کر آتے جو ان دنوں آنوں کے حساب میں ہوتے تھے۔گندم اور چاول تو سال بھر کے لیتے تھے۔یہ میں اُن دنوں کی بات کر رہی ہوں جن دنوں ربوہ جنگل بیابان تھا۔ڈربھی بہت لگتا تھا۔خاص طور پر جب آسمان پر دھوئیں کی طرح اٹھتے سیاہ بادل نظر آتے تو جان نکل جاتی تھی۔یہ اشارہ ہوتا تھا بہت ہی خوفناک قسم کی آندھی کا۔ہم سب کوشش کرتے کہ سب ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیں کیونکہ ڈر ہوتا کہ ہم اس آندھی میں اڑ نہ جائیں۔اس آندھی کے بعد ہم سب ایک دوسرے کو پہچان نہیں سکتے تھے ، سب کی شکلیں بھوت کی طرح ہو جاتی تھیں۔آنکھیں ، ناک، منہ سب مٹی سے اٹ جاتے۔آندھی کے ختم ہونے پر سب ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسی سے لوٹ پوٹ بھی ہوتے کہ جس رنگ کی آندھی ہوتی ہماری شکلیں بھی اسی رنگ میں رنگ جاتیں لیکن یہ سب مزہ آندھی کے بعد ہوتا۔آندھی کے دوران تو ڈر کے مارے جان نکلی ہوتی اور ہماری امی ہم سب کو اپنے پروں کے نیچے سمیٹے ہوتیں۔اکثر آندھی کے بعد بارش ہوتی تو ہمارے کچے گھر کی چھت ٹپکتی۔باہر بارش رک جاتی مگر ہمارے گھر کی چھت کئی دنوں تک ٹپکتی رہتی۔ہماری امی چھت پر ہوتیں اور (208)