میری پونجی

by Other Authors

Page 201 of 340

میری پونجی — Page 201

1928ء کو قادیان میں پیدا ہوئے اور 4 ستمبر 2014ء کو نیو یارک میں 86 سال کی عمر میں وفات پا گئے اناللہ وانا الیہ راجعون۔کل پانچ بھائی اور چار بہنیں تھیں۔امی نے پانچویں جماعت تک سکول میں تعلیم پائی۔قادیان کے ماحول اور گھر کی تعلیم و تربیت کا اثر تھا کہ دینی علوم میں ماہر تھیں اور قرآن پاک سے محبت تھی۔اسی طرح در ثمین، کلام محمود اور دیگر شعرا کے پاکیزہ اشعار وردزبان رہتے۔ایسی ہستی کی خوبیوں کا احاطہ کرنا اتنا آسان نہیں ان کی زندگی پر تو جتنا بھی لکھا جائے کم ہے۔میں جو بھی الفاظ استعمال کرونگی وہ کم ہونگے۔مگر اُن کی شخصیت کی تصویر کشی کے لیے انہی کی زندگی کے وہ سچے اورا چھوتے واقعات لوں گی جو حقیقت پر مبنی ہوں اور اُس حسن کو نکھار سکیں جن کی وہ حقدار ہیں۔میری امی کی شادی ۱۹۳۵ء میں لدھیانہ میں ہوئی۔میری امی جان جب شادی ہو کر آئیں تو گھر میں صرف میرے دادا جان اور تایا جان احمدی تھے۔ابا جان کو تھوڑ ا عرصہ ہوا تھا احمدیت قبول کئے ہوئے۔( ابا جان کا احمدیت کو قبول کرنا ، شادی ، اور باقی ساری باتیں اُن کے بارے میں جب لکھوں گی تو ساری تفصیل سے لکھوں گی۔یہاں صرف اُمی جان کے متعلق لکھنا چاہتی ہوں ) امی جان بہت تقویٰ شعار اور خدا سے بے حد پیار کرنے والی بے حد صابر شاکر کبھی کسی کا برانہ چاہنے والی پیاری ہستی تھیں، ہر ایک سے محبت کرنے والی اور جس سے ایک مرتبہ تعلق ہو جائے اس کو ہمیشہ نبھانے والی۔ان کا ایک خاص وصف خدا تعالیٰ پر توکل تھا۔میرے ابا جان کی پوری فیملی غیر از جماعت اور تعلیم سے نابلد تھی۔وہاں میری امی جان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی کی بیٹی، مربی بھائیوں کی بہن ، خود بھی اُس زمانہ کی پانچ جماعت پاس تھیں اور باقی ساری فیملی بھی اُن کی پڑھی لکھی تھی۔اب جب میری امی اس نئے ماحول اور نئے گھر میں گئیں تو میرے دادا جی تو بہت خوش تھے کہ ایک اور احمدی فرد کا گھر میں اضافہ ہو گیا ہے مگر باقی گھر والوں کے لیے بہت تکلیف دہ بات تھی کہ اب یہ احمدی بڑھتے جارہے ہیں۔پہلے صرف تایا جی ، داداجی ، پھر میرے ابا جان احمدی وئے اور اب یہ مرزا ئین بھی گھر میں آگئی ہے۔نہ جانے یہ ہمارے ساتھ کیا کرے گی۔لیکن میری ہو (201>