میری پونجی

by Other Authors

Page 199 of 340

میری پونجی — Page 199

چاہتی تھیں کہ میں جاؤں مگر نہیں جانتی میرا رونا یا میری اماں کا پریشر یا ہم دونوں کے ملاپ نے میری امی جان کو مجبور کر دیا کہ میں دوبارہ اُن کے ساتھ لاہور چلی گئی۔اب میں گیارہ یا بارہ سال کی تھی سکول پھر ختم ہو گیا لیکن اب صرف یہ فرق ہوا کہ مجھے اماں نے گھر داری سکھانی شروع کر دی۔کھانا کیسے بناتے ہیں ،صفائی کے سلیقے سویٹر بنانے اور اسطرح کے بہت سارے چھوٹے چھوٹے کام وہ مجھ سے کرواتیں تھیں ، وہ خود بہت سلیقہ شعار سلائی کڑھائی کی ماہر تھیں۔اماں نے اپنے گن کچھ نہ کچھ میرے اندر ڈالنے کی کوشش کی اور مجھے احساس بھی نہ ہوا کہ میں کافی گھر داری جان چکی تھی۔میں لاہور میں اپنی اماں کے پاس تھی۔گھر میں میرے بڑے تایا جان اور اُن کی پوری فیملی بھی تھی۔گھر اُن کا ہی تھا ہم اُن کے گھر میں رہتے تھے۔بہت بڑا گھر تھا کچھ اور لوگ بھی رہتے تھے۔میرے اور تایا جان کے علاوہ سب غیر احمدی تھے۔اُن ہی دنوں 1953ء کے فسادات شروع ہوئے۔دشمن یہ ارادہ کئے ہوئے تھے کہ سب احمدیوں کا نام ونشان مٹادیا جائے۔ہمارا گھر انار کلی میں تھا۔سب جانتے تھے کہ یہاں احمدی فیملی رہتی ہے، غیر احمدی جلوس بنا کر ہمارے گھر کی طرف آتے تھے کہ ہم آگ لگا دیں گے۔پھر سب گھر والوں نے ڈرتے ہوئے مجھے میری اماں کے میکہ یعنی میرے ماموں کے گھر اور تایا جان کو بھی کہیں اور بھجوادیا۔یہاں سے میری زندگی کا رُخ بدلنا شروع ہوا۔یقین کریں میں بالکل نہیں جانتی کہ کیوں میرا دل چاہنے لگ گیا کہ میں واپس اپنے بہن بھائیوں کے پاس چلی جاؤں اور پھر یہ بھی مجھے احساس ہوا کہ میں تو احمدی ہوں مجھے اپنی امی جان اور بہن بھائی یاد آنے لگے۔اُدھر میری اماں کا بھی واپسی کا پروگرام بن گیا چونکہ لاہور میں جماعت کے خلاف کافی بڑے حالات تھے میری اماں چاہتی تھی کہ مجھے میرے گھر پہنچا دیا جائے۔میری اماں اور باقی ساری فیملی احمدی نہیں تھی اس لیے اُن کا یہ خیال کہ یہ بچی اب جوان ہوگی تو اس کی شادی کا مسئلہ ہوگا۔اس لیے بہتر ہے اب اس کو اس کی ماں کے پاس چھوڑ دیں۔میری اماں نے خود آکر مجھے ربوہ چھوڑا اور سمجھایا کہ اب تم نے مجھے یاد نہیں کرنا۔یہی تمہارا گھر ہے اور پھر وہ ہمیشہ کے (199)