میری پونجی — Page 156
ایک عارضی گھر میں منتقل ہو گئے۔سچ تو یہ ہے کہ اس فیصلہ سے میں اور ہماری پوری فیملی بہت خوش تھی۔ہم سب حضور کے بہت قریب ہو گئے۔جب ہم مسجد سے بہت دور تھے پھر بھی میری کوشش ہوتی تھی کے بچوں کا کسی نہ کسی رنگ میں جماعت کے ساتھ واسطہ رہے۔اُس کا حل ہمارے پاس یہ ہی تھا کہ میرے بیٹے تو امی ابا جان اور اپنے ماموں کے ساتھ مسجد چلے جاتے۔اپنی بیٹی لبنٹی کو لوکل جماعت کے ساتھ منسلک رکھا۔ہر میٹنگ اور ہر پروگرام میں اُس کو لیکر جاتی اور ہر پروگرام میں وہ حصہ بھی لیتی۔جب حضور پاکستان سے لندن آگئے اور اُسکو یہ علم ہوا کہ لجنہ بھی ڈیوٹی دینے جاتی ہیں تو اُس نے بھی اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں بھی حضور کے گھر ڈیوٹی دینا چاہتی ہوں۔ابھی اُس نے ڈرائیونگ پاس کی تھی تو وہ ایسٹ لندن یعنی گرین سٹریٹ سے اکیلے ڈرائیو کر کے حضور کے گھر ڈیوٹی پر آتی کبھی کبھار میں بھی اُس کے ساتھ آتی مگر زیادہ تر وہ خود ہی اکیلے آتی۔مجھے فکر بھی ہوتی کہ ابھی وہ اتنی بڑی بھی نہیں ہوئی تھی لیکن الحمد للہ میری بیٹی لبنی کو خدا کے فضل کرم کے ساتھ حضور خلیفہ اسیح الرابع" کی خدمت کا بہت اچھا موقع ملا۔خاص طور پر اب لبنی کی بات کر رہی ہوں تو حضور پیارے آقا کے ساتھ اُس کے بھولے پن کا قصہ بھی سنا دیتی ہوں۔جب وہ پہلی یا دوسری بار ڈیوٹی پر گئی تو پیارے آقا نے تعارف کی غرض سے ابو کا نام پوچھا تو بتا دیا۔دادا کا بھی نام ٹھیک بتا دیا۔ابو کے بھائیوں کا نام پوچھا کہ تمہارے ابو کے بڑے بھائی کا کیا نام ہے تو بنی کا جواب تھا بڑے تایا ابو کا نام ہے کراچی والے تایا ابو اور ایک ہیں چنیوٹ والے تا یا ابو۔حضور نے ہنستے ہوئے پوچھا کہ انکے نام کیا ہیں تو اُس کا جواب یہ تھا کہ حضور اُن کے یہ ہی نام ہیں۔حضور نے پھر ہنستے ہوئے فرما یا کل اپنے ابو سے پوچھ کر آنا۔پھر ہم نے اُسے سمجھایا کے وہ ابو سے بڑے ہیں اس لیے نام نہیں لیتے۔مگر اُن کے یہ نام ہیں اور دوسرے دن لبنی نے جا کر حضور کو پوری بات بتائی۔پیارے آقالینی کے اس بھولے پن پر بہت محظوظ ہوئے۔پیارے آقا تو سب سے ہی بہت پیار کرتے تھے جس کو بھی پوچھیں اس کا یہ ہی جواب ہوگا۔(156)