میری پونجی — Page 141
میں اپنے بچوں کے ساتھ تھی لیکن سامی کہاں ہیں کچھ علم نہیں تھا۔یہاں ایک بات بتاتی چلوں کہ اس زمانہ میں فون عام نہیں تھے مگر سامی صاحب کی ایک یہ عادت ضرور تھی کہ وہ جب بھی گھر سے باہر ہوتے یا ئیں اُن سے علیحدہ ہوتی وہ ہر روز بلا ناغہ مجھے خط لکھتے اور اب بھی جس خطر ناک سفر پر وہ تھے جہاں بھی ہوتے دو لائن لکھ کر پوسٹ کر دیتے۔اُن کے پاس کوئی زادراہ نہیں تھا۔راستے میں فروخت کے لیے وہ کچھ سامان ساتھ لیکر گئے تھے جو بیچ کر گزارا کرنا تھا اور مجھے ڈاک کے ذریعے اپنی خیریت کی اطلاع کرنی ہوتی۔وہ سامان کون خرید تا سب سامی کی طرح کے لئے پٹے مسافر تھے اور بھی جو لوگ تھے اس طرح کا سامان لیکر نکلے تھے۔شکر ہے کھانے پینے کا گزارا ہورہا تھا۔سو ان مشکلات کی وجہ سے میرا ان سے رابطہ ٹوٹ گیا۔پھر کافی دنوں کے بعد ترکی سے خط آیا جس میں خیریت کی اطلاع کم تھی ڈرانے والی باتیں زیادہ تھیں۔ظاہر ہے میرا تو پہلے ہی دن کا سکون اور راتوں کی نیند حرام ہو چکی تھی ہر وقت دعاؤں پر زور تھا۔ترکی سے یوگوسلاویہ، رومانیہ، بلغاریہ، اٹلی اور سوئٹزرلینڈ سے ہوتے ہوئے تقریباً تین ماہ کے بعد بفضلہ تعالیٰ جرمنی پہنچ گئے۔قیام جرمنی راستے میں کئی ساتھی بنے جنہوں نے اچھا ساتھ بھی دیا اور کئی ایسے بھی تھے جنہوں نے سامی صاحب کا مال بھی لوٹا۔شکر الحمد للہ ہمیں احمدی ہونے پر فخر ہے کہ ہر جگہ ہمارے مشن ہاؤس ہیں جو اپنے گھر کی طرح ہی ہوتے ہیں۔سامی صاحب بھی جاتے ہوئے جماعت کی طرف سے ایک ایسا ہی خط لیکر گئے تھے تاکہ مشن ہاؤس میں کچھ دیر قیام کر سکیں۔لیکن وہاں ایک سامی نہیں وہاں تو اور بھی سامی صاحب جیسے پناہ لیے ہوئے تھے اور حکومت کی طرف سے یہ اجازت نہیں تھی کہ آپ اس طرح لوگوں کو رہائش کیلئے مسجد میں رکھیں، اس لیے سامی صاحب کو بھی مربی صاحب نے اپنا ٹھکانا ڈھونڈنے کے لیے کہہ دیا جو ان کے لیے بہت مشکل تھا۔زبان کا مسئلہ اور کوئی جان پہچان نہیں (141)