میری پونجی — Page 110
میری یونجی پاکستان پہنچ کر غربت نے گھر میں ڈیرا ڈال دیا۔آمدن کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، کنبہ بہت بڑا تھا۔اباجی نے ساری زندگی وقف میں ہی گزاری لیکن الحمد للہ! اللہ تعالیٰ نے ہر مشکل میں ہماری مدد کی۔ہماری مہمان نوازی اور میل ملاقات میں کوئی فرق نہیں ہوا۔اماں جی اپنے محلہ میں اور اردگرد کے لوگوں میں بہت مقبول ہوئیں۔لوگ بہت عزت کرتے تھے اُس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ ہر چھوٹے بڑے کے کام آتی تھیں۔ایک واقعہ تو ایسا بھی ہے ایک فیملی جن کی اولاد نہیں تھی جب بیٹا پیدا ہوا تو وہ اماں جی کی گود میں ڈال گئے اور کہا کہ یہ آپ کا بیٹا ہے۔رہتا وہ اپنے والدین کے ساتھ تھا مگر کپڑے اماں جی سے لے کر پہناتے تھے۔باوجود اس کے کہ ہمارے گھر کے گردونواح میں زیادہ تر جالندھر اور پانی پت کے مہاجر آباد تھے مگر بہت جلد اماں جی نے اُن کے دلوں میں اپنی جگہ بنا لی۔جہاں سے بھی گزرتیں ہر دوکان دار اور ہر ملنے والا بے بے سلام کہہ کر گزرتا۔صبح شام قرآن مجید پڑھنے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔اُس میں چھوٹے بڑوں کی تمیز نہیں تھی جو چاہے آ سکتا تھا۔اماں جی سب کی ماں تھیں اور سب کو شوق سے پڑھاتی تھیں۔اماں جی نماز روزے کی پابند، تہجد گزار، اللہ تعالیٰ پر یقین کامل، درود شریف کا ورد کرنا بلکہ ہرمشکل وقت کو ٹالنے کے لیے کئی کئی سو مرتبہ درود شریف پڑھتیں اور جب کام ہوجاتا تو شکرانے کے طور پر پھر درود شریف کا ورد کرتیں۔وصیت کا چندہ باقاعدگی سے دیتیں بلکہ باقی چندوں میں بھی کبھی سستی نہ ہونے دیتیں۔گھر میں یہ اصول بنا دیا گیا تھا کہ پہلے چندہ ادا کریں بعد میں اپنی ضروریات کا سوچیں۔سادگی استقدر تھی کہ سونا چاندی تو ایک طرف کبھی مصنوعی زیور بھی نہیں پہنتی تھیں۔قادیان کے جلسوں کا اپنا ایک مزہ تھا، اُن یادوں کو کون بھول سکتا ہے۔تمام مہمان ہمارے گھر میں اس مزے سے رہتے جیسے کہ مالک ہوتے تھے۔پھر ہمیں جہاں جگہ ملتی سو جاتے لیکن اب ہمیں خود مہمان بن کر ربوہ جانا ہوتا۔مگر اماں جی نے یہاں بھی جلسے کے دنوں میں مہمان نوازی کی روایت کو قائم دائم رکھا۔ہر سال جلسہ پر اپنا ٹینٹ لگواتیں اور وہی بہاریں مہمان نوازی کی ، عبادتوں کی (110>>