معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 19 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 19

19 چاہئے۔جب انبیاء علیہم السلام کے مقام کا ہمیں ذوق اور آشنائی ہی نہیں تو ہم اس بارے میں گفتگو ہی کیا کر سکتے ہیں۔“ ( ترجمه از الیواقیت والجواہر جلد2 صفحہ 47 صفحہ 72 بحوالہ اسلام کا تصور نبوت صفحہ 55 از حکیم محمود احمد ظفر صاحب شائع کرده تمیری کتب خانہ لاہور مطبع دوم 1999ء) ان تصریحات سے صرف ایک ہی نتیجہ نکتا ہے کہ قرآنی حقائق جن میں معراج نبوی کی آیات کو غایت درجہ اہمیت حاصل ہے، نور نبوت کے بغیر نہیں کھل سکتے اور ان تک رسائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہی عاشق صادق اور بروز کامل حاصل کر سکتا ہے جو اپنی والہانہ عقیدت کے براق سے تیرہ صدیوں کا فاصلہ طے کر کے بارگاہ محمد یت تک پہنچا اور شہنشاہ نبوت کے نورانی چہرہ کو اپنی کشفی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہو اور یہی بانی سلسلہ احمدیہ کا دعویٰ ہے چنانچہ آپ نے اپنے پرکیف قصیدہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک کرتے ہوئے عرب و حجم پر انکشاف فرمایا ہے کہ والله ان محمدا كردالة ويه الوصول بدة السلطان والسلسة اني قد رأيت جماله بعیون جسمی قاعدًا بمکانی ورأيت في ريعان عمرى وجهه لم النبي اللہ کی قسم محمد رسول اللہ صلی اللها لمحفظتى لاقانی منظم ہیں اور صرف وسلم در بار خداوندی کے گو یا آپ ہی کے طفیل دربار سلطانی تک رسائی ممکن ہے۔بخدا میں نے آپ کے حسن و جمال کو اپنی ظاہری آنکھوں سے اپنے مکان میں بیٹھے دیکھا ہے۔میں نے آغاز جوانی میں ہی آپ کا چہرہ مبارک دیکھا پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیداری کی حالت میں مجھے اپنی ملاقات کا شرف بخشا۔