معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 14 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 14

14 میں ہوا کہ آنحضرت کا قلب بیدار تھا مگر آنکھ سوئی ہوئی تھی ( تفسیر ابن کثیر۔آیت اسراء) 2- صحابہ اور سلف صالحین کی ایک بھاری جماعت کے نزدیک اسراء عین بیداری میں روح و جسم دونوں کے ساتھ ہوا تھا۔3- ایک تیسرے طبقہ کے نزدیک واقعہ اسراء بیت المقدس تک مع جسم کے بیداری کے ساتھ ہوا لیکن آنحضرت ﷺ بیت المقدس سے آسمان تک عالم خواب میں روح کے ساتھ تشریف لے گئے تھے۔(تاریخ الخمیس ”قصہ معراج تالیف قاضی مکہ و مورخ اسلام حضرت الشیخ حسین الدیار بکری متوفی 1550/996ء ) مورخ اسلام حضرت حسین الدیار بکری کی تاریخ انمیں سے یہ بھی ثابت ہے کہ دسویں صدی ہجری تک بعض مشاہیر امت کا یہ نظریہ بھی سند قبولیت پاچکا تھا کہ معراج دوبار ہوا۔ایک بار نیند میں اور دوسری مرتبہ بیداری میں اور وہ اس طرح کہ وحی سے قبل اللہ عز و جل نے جو حقیقت خواب میں منکشف فرمائی اسے آغاز وحی کے ایک سال بعد بذریعہ معراج بیداری میں دکھلا دیا گیا۔حضرت علامہ نے معراج کے مقام قاب قوسین او ادنیٰ کے بارہ میں اپنا واضح مسلک یہ پیش فرمایا ہے کہ اس سے مراد منزلت اور مرتبت کا قرب ہے نہ مکان کا فسانه تعالى : منزه عنه، وجہ یہ کہ اللہ تعالیٰ مکان کی حد بندیوں سے بالکل منزہ ہے۔" تاریخ الخمیس، جلد 1 صفحہ 311 مطبوبه موسسه شعبان بیروت) روایات میں بیت المقدس کے الصخرہ سے معراج سماوی کا تذکرہ بکثرت ملتا ہے۔علامہ حسین الدیار بکری نے اس کا ذکر بھی اپنی تاریخ میں خاص اہتمام کے ساتھ کیا ہے اور لکھا ہے کہ اسی الصخرہ سے فرشتے آسمان کی طرف چڑھتے ہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ اروع مومنین کا عروج وصعود الی السماء بھی اسی سے ہوتا ہے۔(صفحہ 310 ) امت کے اہل کشف بزرگ اور سفر معراج تصوف اسلام کی تیرہ سو سالہ تاریخ سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ امت کے اہل کشف بزرگوں نے سفر معراج کونورمحمدی یا روح ہی کا سفر قرار دیا ہے خصوصا مسلم سپین کے نامور صوفی