معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 15 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 15

15 حضرت ابن عربی نے اپنی تفسیر میں ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اتفہیمات الالہیہ میں اور حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی نے اس نظریہ کی تائید فرمائی ہے اور جیسا کہ مجدد اسلام حضرت علامہ جلال الدین سیوطی نے بھی روایات معراج میں لکھا ہے کہ "لقی ارواح الانبیاء عليهم السلام (در منثور جلد 4 صفحہ 114) حضرت سلطان الاولیاء شیخ علی ہجویری داتا گنج نے کشف الجو ب باب الروح میں یہی تصریح فرمائی ہے کہ شب معراج میں بشمول حضرت سیدنا عینی سب نبیوں کی ارواح ہی سے ملاقات ہوئی تھی۔تمام بزرگ صوفیا کے لٹریچر میں سفر کی اصطلاح حق تعالی کی طرف دل کی توجہ کا نام ہے۔ان کے نزدیک سلوک کی راہ میں چار سفر ہیں :- ا۔سیر الی اللہ۔( منازل نفس سے افق مبین کی طرف ) ۲۔سیر فی اللہ۔( صفات الہیہ سے متصف ہو کر افق اعلیٰ کی طرف)۔مقام قاب قوسین۔(حضرت احدیت کی طرف عروج۔جس کے بعد مقام اوادنی ہے جو ولایت کی انتہا ہے ) سیر باللہ۔(فنا سے مقام بقاء تک) امت مسلمہ کے بلند پایہ اہل کشف اولیاء کے نزدیک سدرۃ المنتہی، افق مبین، بیت المقدس اور بیت الحرام بھی روحانی وکشفی اصطلاحیں ہیں۔(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو اصطلاحات الصوفیه از حضرت کمال الدین الکاشی السمر قندی متوفی 730) بزرگ صوفیاء بہشت سے مراد وحی و الہام لیتے ہیں۔ان کی اصطلاح میں عالم مثال سے عالم اجسام میں ظہور نزول اور عالم اجسام سے حضرت احدیت جل شانہ کی طرف ترقی عروج کہلاتا ہے۔(اصطلاحات صوفیہ از حضرت خواجہ شاہ محمد عبد الصمد فریدی چشتی صفحہ ۲۲-۷۹) حضرت ابو سہل بن عبدالله تستری (متوفی ۲۸۳ھ) نے فرمایا کہ معراج میں آنحضرت نے بیت المعمور کا جو نظارہ دیکھا اس کا مطلب عارفوں کے دل ہیں جو خدا کی معرفت و محبت سے لبریز رہتے ہیں۔وہی بیت التوحید ہیں جن کا حج فرشتے کرتے ہیں