معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 8
8 کے وجود سے ظاہر ہوگی قرآن قلم سے محفوظ ہوگا اور اس کے علوم کی قلموں کے ذریعہ اشاعت ہوگی اور انسان کام کو وہ کچھ سکھلایا جائے گا جس کا پہلے نام ونشان نہ تھا۔حضرت مصلح موعودؓ نے تاریخ عالم کے اس بین الاقوامی تغیر عظیم کا ذکر نہایت ولولہ انگیز میں کیا ہے۔فرماتے ہیں:۔یورپ کے پاس کوئی ایک چیز بھی نہ تھی۔اس نے جو کچھ سیکھا، سپین کے مسلمانوں سے سیکھا اور چین نے جو کچھ سیکھا اور شام والوں نے جو کچھ سیکھا، قرآن سے سیکھا پس دنیا کے تمام علوم قرآن سے ہی ظاہر ہوئے ہیں اور اب قیامت تک جس قدر قلمیں چلیں گی قرآن کریم کی خدمت اور اس کے بیان کردہ علوم کی ترویج کے لئے ہی چلیں گی تغیر کی جلد صح۲۷۳) نیز فرمایا۔درخت کا پھیلاؤ خواہ کسقدر بڑھ جائے بیج کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اسی طرح علوم خواہ کس قدر ترقی کر جائیں سہرا مسلمانوں کے سر ہی رہے گا۔اور مسلمانوں کا سرقرآن کریم کے آگے جھکا رہے گا کیونکہ یہی وہ کتاب ہے جس نے اعلان کیا کہ علم بالقلم اب دنیا کو قلم کے ذریعہ علوم سکھانے کا وقت آگیا ہے (ایضاً) اگر چہ اٹھارھویں اور انیسویں صدی میں مسلم دنیا سائنس اور علوم جدیدہ کو شجر ممنوعہ سمجھنے کے باعث ظلمت کدہ کا نظارہ پیش کر رہی تھی مگر سید نا حضرت مسیح موعود نے اپنے معرکہ آراہ لٹریچر ہے ثابت کر دکھایا کہ قرآن مجید ہر قسم کے علوم کا بجرنا پیدا کنار ہے۔دیگر مسلمانوں کے مذہبی زعماء کے بر عکس قرآن مجید سے عہد حاضرہ کے علوم اور ایجادات کا ثبوت دے کر حقانیت رسول عربی پر گویا دن چڑھا دیا۔آپ کے بعد خلفاء احمدیت نے قرآن سے موجودہ علوم کے بارہ میں ایسے ایسے اکتشافات فرمائے ہیں کہ مغرب کے دانشوروں کی آنکھیں بھی چکا چوند ہو گئیں اور ڈاکٹر مورس بوکائی ( فرانسیسی دانشور ) کی کتاب ”دی بائبل، دی قرآن اینڈ سائنس میں قرآنی حقائق کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے، وہ کتاب کی اشاعت سے مدتوں قبل جماعت احمد یہ پوری