معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 7 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 7

7 زمین و آسماں ، ملائکہ ارواح قبور ، عرش و کرسی اور لوح محفوظ الغرض دونوں جہاں کا حال مشاہدہ کرتا ہے۔کشف کبری میں سالک کو نور بصیرت سے ذات حق سبحانہ کی زیارت ہوتی ہے۔(اصطلاحات صوفیه صفحه ۱۳-۱۹۱ از " حضرت شاہ حمد عبد الصمد فریدی چشتی ناشر که بکس بیرون موری درواز سرکلر روڈ لاہور ) اس عالم ثالث کو پہلے دونوں جہانوں کے مقابل عدیم المثال برتری حاصل ہے۔چنانچہ حضور تحریر فرماتے ہیں۔عجائبات اس عالم ثالث کے بے انتہاء ہیں اور اس کے مقابل دوسرے عالم ایسے ہیں جیسے آفتاب کے مقابل پر ایک دانہ خشخاص ( ایضاً حاشیه صفحه ۱۲۹) اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا بھر کے سائنسدان عالم ظاہر اور عالم باطن کے رموز و اسرار کی دریافت اور بازی کا ئنات کی تسخیر میں صدیوں سے دیوانہ وار مصروف ہیں اور انہیں اس مقصد میں ایک حد تک کامیابی بھی ہوئی ہے لیکن اس کی حیثیت کیا ہے حضرت مسیح موعود کے قلم مبارک سے سنئے۔فرمایا۔یاد رکھو انسان کی ہرگز طاقت نہیں ہے کہ تمام دقیق در دقیق خدا کے کاموں کو دریافت کر سکے انسان کا وہ علم نہایت ہی محدود ہے جیسا کہ سمندر کے ایک قطرہ میں سے کروڑم حصہ قطرہ۔جس حالت میں انسان کا علم خدا کی قدرتوں کی نسبت اسقدر بھی نہیں جیسا کہ ایک سوئی کی نوک کی تری ایک بحر اعظم کے پانی سے نسبت رکھتی ہے“ چشمہ معرفت صفحه ۲۶۸ طبع اول معه حاشیه) اقلیم مذہب و سائنس کا آفاقی تاجدار قرآن مجید نے سلسلہ انبیاء میں صرف آنحضرت ﷺ کو نبی امی کا خطاب دیا ہے اور سورۃ جمعہ میں اہل عرب کو امین کہا گیا ہے کیونکہ وہ بعثت نبوی کے وقت علم سے نا آشنا اور محض جاہل تھے مگر آنحضرت ﷺ کو غار حرا کی پہلی وحی میں ہی یہ بشارت دی گئی کہ سب سے کریم خدا کی تجلی آپ