معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 6 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 6

کیا جاتا ہے ( ملفوظات جلد ۳ صفحه ۲۳۵ طبع اول) حضرت اقدس کے مندرجہ بالا اقتباس سے یہ فیصلہ کن راہ نمائی بھی ملتی ہے کہ سائنس کی تحقیقات کا دائرہ عالم ظاہر و باطن تک محدود ہے جس کا تعلق حواس ظاہری ، آلات خارجی اور عقل و قیاس سے ہے لیکن عالم باطن در باطن تک اس کی رسائی نہ پہلے ممکن تھی نہ اب ہوسکتی ہے۔اس کا واحد ذریعہ وحی الہام اور کشف ہیں جو زندہ خدا کے زندہ مذہب پر ایمان لانے سے نصیب ہوتے ہیں اور یہ بدیہی امر ہے کہ ان تینوں نعمتوں کا تعلق براہ راست روح سے ہے جس کی تجلیات کا مرکز قلب ہے۔عالم باطن در باطن کے حیرت انگیز اثرات سرمہ چشم آریہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ذاتی مشاہدات کی بناء پر روح کی ہیں زبر دست قوتوں کی نشان دہی فرمائی ہے اور لکھا ہے کہ اب تک قریباً پانچ ہزار نادر مکاشفات و عجائبات مجھ پر جناب الہی سے ظاہر ہو چکے ہیں۔اس ضمن میں یہ انکشاف کیا ہے کہ۔دنیا میں صاحب کشف پر ایسے ایسے اسرار ظاہر ہوتے ہیں کہ ان کی کنہ کو سمجھنے میں بکلی عقل عاجز رہ جاتی ہے۔بعض اوقات صاحب کشف صدہا کوسوں کے فاصلہ سے باوجود حائل ہونے بے شمار حجابوں کے، ایک چیز کو صاف صاف دیکھ لیتا ہے بعض اوقات صاحب کشف اپنے عالم کشف میں جو بیداری سے نہایت مشابہ ہے ارواح گزشتہ سے ملاقات کرتا ہے۔اور سب سے تعجب کا یہ مقام ہے کہ بعض اوقات صاحب کشف اپنی توجہ اور قوت تاثیر سے ایک دوسرے شخص پر باوجود صد ہا کو سیوں کے فاصلہ کے باذنہ تعالیٰ عالم بیداری میں ظاہر ہو جاتا ہے حالانکہ اس کا وجود عصری اپنے مقام سے جنبش نہیں کرتا۔ای طرح صدہا عجائبات کو عارف باللہ پچشم خود دیکھتا ہے۔" سرمه چشم آریه حاشیه صفحه ۱۲۹ ۱۳۰) اکابر صوفیاء کے نزدیک کشف کی دو قسم ہیں۔کشف صغری جس میں سالک قلبی توجہ سے