معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 4 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 4

حضرت اقدس نے اپنی کتب اور ملفوظات میں واضح فرمایا ہے کہ عالم کے معنے یہ ہیں جس سے مدیر بالا رادہ اور کامل و یگانہ صانع پر اس شان سے دلالت کرے اور اس کا علم اور خبر دے کہ کائنات کے صانع پر ایمان لانے کے لئے طالب حق کو مجبور کر دے اور اسے مومن بندوں تک پہنچا دے۔حضور نے اعجاز مسیح میں اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ عالمین سے مراد مخلوق کو پیدا کرنے والے خدا کے سوا ہر بستی ہے، خواہ وہ عالم ارواح سے ہو یا عالم اجسام سے اور خواہ وہ زمینی مخلوق میں سے ہو یا چاند اور ان کے علاوہ دیگر اجرام کی مانند کوئی چیز ہو، یہ سب جناب باری تعالٰی کی ربوبیت کے تحت داخل ہیں۔حضور انور کشتی نوح صفحہ ۳۸ حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں:۔رب العالمین کیسا جامع کلمہ ہے۔اگر ثابت ہو کہ اجرام فلکی میں آبادیاں ہیں تب بھی وہ آبادیاں اس کلمہ کے نیچے آئیں گی " جیسا کہ لغت سے ثابت ہے رب کے معنی مالک کے بھی ہیں۔حضور نے اس نقطہ نگاہ سے رب العالمین کے مقام کو جن الفاظ سے واضح فرمایا ہے ان سے عہد قدیم و حاضر کے دہریہ اور محمد فلاسفروں اور مادہ اور روح کو خدا تعالی کی طرح ازلی ابدی ماننے والوں کے نظریات کو پاش پاش کر دیا ہے چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں۔اس کا کوئی ایسا کار پرداز نہیں جس کو اس نے زمین آسمان کی حکومت سونپ دی نہو اور آپ الگ ہو۔بیٹھا ہو اور آپ کچھ نہ کرتا ہو ( اسلامی اصول کی فلاسفی ) عجائبات عالمین کی تین اقسام حضرت مسیح موعود ارشاد فرماتے ہیں۔در حقیقت خدائے تعالیٰ نے اپنے عجیب عالم کو تین حصہ پر منقسم کر رکھا ہے۔ا۔عالم ظاہر جو آنکھوں اور کانوں اور دیگر حواس ظاہری کے ذریعہ اور آلات خارجی کے توسل سے محسوس ہو سکتا ہے۔۲۔عالم باطن جو عقل اور قیاس کے ذریعہ سمجھ آ سکتا ہے۔۳۔عالم باطن در باطن جو ایسا نازک اور لائد رک و فوق الخیالات عالم ہے جو