معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 3
3 قرآنی سائنس بسم الله الرحمن الرحیم جس طرح تمام آسمانی کتابوں کا مغز قرآن شریف ہے اسی طرح زندہ خدا کی اس زندہ کتاب کا لطیف ترین خلاصہ سورۃ فاتحہ ہے جس کی آیت الــحــمــد لله رب العالمين میں قرآنی سائنس کے وسیع سمندر کو صرف چار لفظوں سے منعکس کیا گیا ہے جو فی ذاتہ بھاری معجزہ ہے۔اور اسکی حقیقی معرفت سورہ آل عمران آیت ۹۲ کے اس عظیم الشان نکتہ سے ہوتی ہے کہ وہ لوگ جو قیام وقعود ہی میں نہیں، پہلوؤں کے بل بھی آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور و فکر کرتے رہتے ہیں، بے ساختہ کہہ اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے یہ کائنات بے مقصد پیدا نہیں فرمائی۔تو پاک ہے پس ہمیں اپنی ناراضگی کی آگ کے عذاب سے بچالے۔یہ ہے قرآنی سائنس جس کو پیش نظر رکھ کر قرآنی سائنسدان تمام جہانوں کی ریسرچ کرتا اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے بے شمار جلوے دیکھ کر سرتا پا حمد بن جاتا ہے۔رب العالمین کی بصیرت افروز تفسیر حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔زبان عرب میں رب کا لفظ سات معنوں پر مشتمل ہے اور وہ یہ ہیں۔مالک۔سید- مدبر - مربی تیم منعم متم۔چنانچہ ان سات معنوں میں سے تین معنی خدا تعالی کی ذاتی عظمت پر دلالت کرتے ہیں منجملہ ان کے مالک ہے اور مالک لغت عرب میں اسکو کہتے ہیں جس کا اپنے مملوک پر قبضہ تامہ ہو اور جس طرح چاہے اپنے تصرف میں لا سکتا ہو اور بلا اشتراک غیر اس پر حق رکھتا ہو اور یہ لفظ حقیقی طور پر یعنی بلحاظ اُس کے معنوں کے بجز خدا تعالیٰ کے کسی دوسرے پر اطلاق نہیں پاسکتا کیونکہ قبضہ تا مہ اور تصرف تام اور حقوق نامہ بجز خدا تعالیٰ کے اور کسی کے لئے مسلم نہیں ، ( من الرحمن ، صفحہ ۷۔۸۔حاشیہ )