معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 38 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 38

38 قرآن مجید نے رویائے معراج سے قبل رویائے یوسفی کا تذکرہ کر کے عرفان محمدیت کی بے شمار راہیں کھول دی ہیں۔بایں ہمہ اس قرآنی اسلوب میں اصل حکمت یہ مضمر ہے کہ اگر چہ ہر نبی کی رویاء کا وحی ہونا مسلم ہے مگر عالم رویاء کے نظاروں کی عظمت و جلالت صاحب رویاء نجی کے منصب و مقام کے مطابق ہوتی ہے لہذا رویائے یوسفی اور سفر معراج کی رویائے محمدی میں زمین و آسمان کا فرق ہے کیونکہ سیدنا یوسف بنی اسرائیل کے نبی تھے جن کی نبوت کا دور اُن کے وصال کے بعد ہی اختتام پذیر ہوا مگر جس طرح نورمحمدی ازل سے ہے اس طرح آپ کا زمانہ رسالت ابدیت کی شان رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ رویائے یوسفی کا تعلق حضرت یوسف کے اپنے عروج اور اپنے بھائیوں اور والدین کی ذات تک محدود تھی مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج میں نہ صرف آپ کے عالی مقام اور آپ کے عہد میں رونما ہونے والے واقعات کا مشاہدہ کرایا گیا ہے بلکہ قیامت تک موجود رہنے والی آپ کی امت کے مناظر پر بھی محیط ہے۔خود اللہ جل شانہ نے اس ظلمانی دور کا نقشہ کھینچتے ہوئے ارشاد فرمایا ظهر الفساد في البر والبحر (الروم (42) یعنی بر و بحر میں فساد برپا ہو گیا یعنی اہل کتاب اور دوسرے سب بد مذہب خوفناک حد تک بگڑ گئے اور اسلام کا مختصر سا قافلہ جو ابتدا سے برسوں تک مکہ میں محصور تھا جس پر سفاک اور خونخواروں دشمنوں نے جور و جفا کی حد کر دی تھی اور مکہ کی گلیوں میں آنحضرت ﷺ کے جانثاروں کے مقدس خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں اور کفار مکہ پکا ارادہ رکھتے تھے کہ سب مسلمانوں کو قتل کر دیں۔محمہ کو صفحہ ہستی سے بالکل نابود کر دیں۔اس ماحول میں جو شب دیجور نے بڑھ کر پُر ظلمت تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ اللعالمین“ کا منصب عطا ہوا۔(الانبیاء:75) اور آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے یہ عالمی اعلان ہوا کہ یایھا الناس انی رسول الله اليكم جميعا۔الذى له ملك السموت والارض - (الاعراف : 159 ) اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں جس کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہت حاصل ہے۔