معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 36
36 جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا کہ اے میرے باپ میں نے گیارہ ستاروں کو اور سورج اور چاند کو اپنے سامنے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔اُس نے کہا۔اے میرے پیارے بیٹے ! اپنی رویاہ اپنے بھائیوں کے پاس مت بیان کرنا ورنہ وہ تیرے خلاف ضرور منصوبہ باندھیں گے۔شیطان انسان کا یقیناً کھلا دشمن ہے۔تاریخی روایات سے بدیہی طور پر ثابت ہے کہ قریش مکہ کو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر معراج کی اطلاع دی تو انہوں نے بھی مخالفت کا ایک طوفان کھڑا کر دیا۔اس سے بھی بڑھ کر تعجب خیز بات یہ ہے کہ برادران یوسف نے اپنے بھائی سیدنا یوسف علیہ السلام کو ایک سازش کر کے کنویں میں گرا دیا اور قریش مکہ کے فیصلہ دارالندوہ (7 ستمبر ) کے معا بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صدیق اکبر حضرت ابو بکر کے ساتھ غار ثور میں پناہ لینا پڑی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رویاء کے نتیجہ میں یہ فوری ردعمل کیوں پیدا ہوا؟ اور فریقین اسے اپنے لئے خطرہ پا کر کیوں اٹھ کھڑے ہوئے؟ وہ حضرات جو قریش مکہ کی مخالفت معراج ہی کو اس کے جسمانی اور مادی ہونے کی دلیل بنائے بیٹھے ہیں ، وہ اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتے لیکن حضرت مسیح موعود نے ایک فقرہ میں اس چیستان کو کمال معرفت کے ساتھ حل کر دیا ہے۔فرماتے ہیں: وہ تمام قصے جو اللہ جلشانہ نے قرآن مجید میں حضرت آدم سے لے کر نضرت مسیح علیہ السلام تک بیان فرمائے ہیں، خالص غیب کی خبریں ہیں۔" مزید فرماتے ہیں:۔آئینہ کمالات اسلام صفحہ 236 حاشیہ ) اس کا ہر ایک قصہ ہی اخبار غیب ہے۔(ایضاً صفحہ 237 حاشیہ) سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے اس نکتہ معرفت کو مشعل راہ بنا کر تغییر کبیر (سورہ یوسف) میں یہ راز سر بستہ کھول دیا ہے کہ آنحضرت کے وجود باجود میں جہاں تمام نبیوں کی صفات بدرجہ اتم موجود ہیں اُسی طرح آپ حضرت یوسف کے بھی مثیل تھے اور اس