معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 28 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 28

28 23 صفحہ 62 ناشر مکتبہ کا روان کچہری روڈ لاہور، تصنیف و اشاعت 1975 ) ایک اور اہل قلم جناب محمد انور بن اختر نے ”واقعہ معراج اور نظریہ اضافیت میں اس تو جہ پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے اس " جب کبھی واقعہ معراج کا تذکرہ ہوتا ہے تو جمارے یہاں سائنسی حلقوں سے لے کر علمائے کرام تک سائلی نظر یے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج پر جانا اور ایک طویل مدت گزار کر وائین ہنیہ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زمین پر عدم موجودگی میں وقت کا نہ گزرنا نظریہ اضافیت سے ثابت ہے۔مگر میں اس خیال سے اتفاق نہیں کر ہے۔اس کی ٹھوس دلیل چند طور بعد پیش کی جائے گی۔تا ہم پہلے نظریہ اضافیت سے کما حقہ تعارفی حاصل کر لیا جائے تا کہ طبیعیات سے تعلق رکھنے والوں کے ذہن میں نظریہ اضافیت کے نکات تازہ ہو جائیں اور ایک عام قاری کے لئے نظریہ اضافیت کو سمجھنا آسان ہو جائے ان اول سال اسمان کہا جاتا ہے کہ موجودہ سائین انسانی شعور کے ارتقاء کا عروج ہے لیکن سائنس دان اور دانشور یہ حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور نظر آتے ہیں کہ انسان قدرت کی مان و ور تعیت کی تو صلاحیتوں کا ابھی تک صرف پانچ فیصد حصہ استعمیل کرم کا ہے قدرت کی عطا کردہ بقیہ پچانوے فیصد صلاحیتیں انسان سے پوشیدہ ہیں اور علم جو سو فیصد صلاحیتوں کا احاطہ کرتا ہو ، اسے پانچ فیصدی محدود و بنوائی نے کیا و ناممکن امر ہے۔واقعہ معراج ایک ایسی مسلمہ حقیقت ہے اور علم ہے جو سائنسی توجیہہ کا محتاج نہیں ہے۔"قرآن کے سائنسی انکشافات صفحہ 20 ناشر ادارہ اشاعت اسلام بی اردو بازار صدر کراچی) اس تنقیدی نکتہ کو پیش کرنے کے بعد یہ صاحب بھی بہت دور کی کوثر کی پکاتے ہیں یعنی آپ نے آئن سٹائن کے اس نظریہ کے پیش نظر کہ روشنی کی وقیلہ ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل