معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 23
23 کے جواب میں قرآن شریف میں کہا گیا تھائلُ سُبْحَانَ رَبّى هَلْ كُنتُ إِلَّا۔بَشَرًا رَّسُولًا۔کہ دے میرا رب پاک ہے میں تو ایک انسان رسول ہوں، انسان اس طرح اڑ کر کبھی آسمان پر نہیں جاتے۔یہی سنت اللہ قدیم سے جاری ہے۔" (الحکم جلد 10 نمبر 21 مورخہ 17 جون 1906 ء صفحہ 4) معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معرفت سے لبریز بیان صرف وہی قدسی وجود دے سکتا ہے جو کشفی آنکھ اور نور ثبوت سے فیض یاب ہو۔اس نقطہ نگاہ سے ثابت شدہ حقیقت تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ جس طرح رسول اللہ ﷺ شب معراج میں خدا تک پہنچے، حضرت بانی سلسلہ مصطفیٰ تک پہنچے اور یہی آپ کا معراج تھا۔تیری معراج کہ تو لوح و قلم تک پہنچا میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا قرآنی سائنس کے خلاف نظریہ جیسا کہ مجدد اسلام حضرت علامہ ابن قیم نے اپنی کتاب "زاد المعاد میں اپنی تحقیق بیان فرمائی ہے، مسلمان دنیا میں حضرت مسیح کے آسمان پر جانے کا عقیدہ فیج اعوج مے زمانہ کی پیداوار ہے جبکہ عیسائیوں نے قبول اسلام کے ساتھ اپنا یہ حمیدہ بھی ملت اسلامیہ کے جسم میں داخل کر دیا۔یہی وہ نظریہ ہے جس کے نتیجہ میں پچھلی صدیوں میں ہزار ہا کلمہ گو فضیلت مسیح کے قائل ہو کر عیسائیت کی آغوش میں چلے گئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔یہی نہیں جناب ڈاکٹر محمد نادر رضا صدیقی (مصنف "پاکستان میں مسیحیت“ شائع کردہ مسلم اکادمی محمد محمر لاہور) کی سالہا سال کی تحقیقی نے ثابت کر دیا ہے کہ ۱۹۵۳ء۔۱۹۷۴ء اور ۳۔۱۹۸۴ء کے بعد جبکہ پاکستانی علماء تکفیر نے جماعت احمدیہ کے خلاف ایجی ٹیشن کی اور بالآخر جبری قوانین کے نفاذ سے احمدیوں پر وفات مسیح اور دوسرے مخصوص نظریات کی تبلیغ و اشاعت پر پابندی لگوادی تو اس کے نتیجہ میں پاکستان کے مسلمان نہایت تیزی سے عیسائیت کے طوفانوں کی