معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 24
24 لپیٹ میں آگئے اور ہر موقع پر ان کی آبادی، ان کے مشنوں، اداروں اور لٹریچر میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور حتی کہ اب یہاں تک نوبت آن پہنچی ہے کہ عالمی عیسائی مشنریوں نے ۱۹۹۷ء کی ایک خفیہ رپورٹ میں پاکستان کو فروغ بیسائیت کے لئے موزوں ترین ملک قرار دیتے ہوئے لکھا "PAKISTAN IS ONE OF THE MOST OPEN LAND FOR THE GOSPEL" دنیا عیسائیت کی زد میں صفحہ ۷۸ مرتبہ محمد انور بن اختر صاحب ناشر مکتبه ارسلان اردو بازار کراچی اشاعت جولائی ۲۰۰۱ء) جناب محمد انور صاحب نے اپنی کتاب کے صفحہ ۳۳ پر یہ انکشاف کیا ہے کہ قاھرہ میں ۴ تا ۹ اپریل ۱۹۰۶ء کو پادری زدیمر ایڈیٹرمسلم ورلڈ کی تحریک پر مسلمانوں میں اشاعت عیسائیت کے طریقوں پر ایک وسیع کا نفرنس منعقد ہوئی جس کی اشاعت خفیہ رکھی گئی اور صرف مشنری حلقوں تک اسے محد و در کھا گیا جس میں مسلمانوں کو مرتد کرنے کے لئے جو ہدایات دی گئیں۔ان میں ایک اہم ہدایت دنیا بھر کے پادریوں کو یہ دی گئی کہ ایک زندہ بچانے والا نہ کہ ایک مردہ پیغمبر تمہاری منادی کا جزو اعظم ہونا چاہئے۔(ایضاً صفحہ ۳۲۲۲۵) ڈاکٹر محمد نادر رضا صدیقی اپنی کتاب ” پاکستان میں مسیحیت کے صفحہ ۲۳۶ پر اس سلسلہ میں رقمطراز ہیں کہ بعض لوگ اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ ایک ترازو کے پلڑوں میں ایک طرف آدھ کلو کا اور دوسری طرف ایک کلو کا بات رکھا جائے تو وزنی ہاٹ کا پلڑہ نیچے کی طرف آ ئے گا اور نسبتاً ہلکا پلڑا اوپر کی طرف جائے گا۔خالد احمدیت حضرت ملک عبد الرحمن صاحب خادم ( وفات دسمبر 1906ء) کے سامنے ایک مناظرہ کے دوران کسی مولوی صاحب نے یہی دلیل پیش کی تو انہوں نے برجستہ جواب دیا کہ جب تک مدینہ طیبہ میں آنحضرت کے مدفون ہیں حضرت عیسی کا آدھ کلو کا بنازمین پر نہیں آسکتا۔اس پر فریق ثانی کے وکیل دم بخود رہ گئے۔لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ اگر کوئی مسلمان کہلانے والا ' عالم دین اپنی اس لچر اور بیہودہ منطق کو پادریوں کے سامنے پیش کرتا ہے تو وہ گستاخ رسول ہے کیونکہ وہ بالواسطہ طور پر یہ اعلان کرتا ہے کہ معاذ اللہ ہمارے