معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 22
22 اس کو مجھتا ہوں بلکہ یہ کشف کا بزرگ ترین مقام ہے جو در حقیقت بیداری بلکہ اس کثیف بیداری سے یہ حالت زیادہ اصفی اور اجلی ہوتی ہے اور اس قسم کے کشف میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے۔" (ازالہ اوہام حصہ اول صفحه 47 48 حاشیہ) مِعْرَاجُ رَسُوْلِنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ آمَرًا إِعْجَازِيًّا مِنْ عَالَمِ الْيَقَظَةِ الرُّوحَانِيَّةِ اللَّطِيفَةِ الْكَامِلَةِ فَقَدْ عُرِجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِسْمِهِ إِلَى السَّمَاءِ وَهُوَ يَقْطَانُ لَا شَكٍّ فِيْهِ وَلَا رَيْبَ وَلَكِن مَّعَ ذَلِكَ مَا فَقَدْ جِسْمُهُ مِنَ السَّرِيرِ كَمَا شَهِدَ عَلَيْهِ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ حمامة البشرى صفحه 34 یعنی ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج لطیف اور کامل روحانی بیداری کے عالم کا ایک احجازی واقعہ ہے۔آپ جسم سمیت آسمان کی طرف اٹھائے گئے درآنحالیکہ آپ بیدار تھے۔اس میں کوئی شک و شبہ نہیں لیکن بایں ہمہ حضور کا جسم مبارک چارپائی پر موجود رہا جیسا کہ آپ کی بعض ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے شہادت دی ہے۔( یہاں حضرت ام المؤمنین عائشہ کی طرف اشارہ ہے جن کا یہ حلفیہ بیان اسلامی لٹریچر میں صدیوں سے محفوظ ہے کہ خدا کی قسم واقعہ معراج کے دوران آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جسد اطہر یہ ہیں موجود تھا)۔ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوا تھا مگر اس ہیں جو بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ وہ صرف ایک معمولی خواب تھا سو یہ عقیدہ ملا ہے اور جن لوگوں کا عقیدہ ہے کہ معراج میں آنحضرت اسی جسد مصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے سو یہ عقیدہ بھی غلط ہے بلکہ اصلی بات اور صحیح عقیدہ یہ ہے کہ معراج کشفی رنگ میں ایک نورانی وجود کے ساتھ ہوا تھا۔وہ ایک وجود تھا مگر نورانی۔اور ایک بیداری تھی مگر کشفی اور نورانی جس کو اس دنیا سے لوگ نہیں سمجھ سکتے مگر وہی جن پر وہ کیفیت طاری ہوئی ہو ورنہ ظاہری جسم اور ظاہر کی بیداری کے ساتھ آسمان پر جانے کے واسطے تو خود یہودیوں نے معجزہ طلب کیا تھا جس