معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 16 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 16

16 پھر سورہ نجم کی آیت ما کذب کی تفسیر میں یہ ایمان افروز نکتہ ارشاد فرماتے ہیں کہ آنحضرت نے اپنے رب کا مشاہدہ اپنے دل کی آنکھ سے فرمایا اور جہاں حضرت موسی تجلی طور کی تاب نہ لاتے ہوئے غش کھا کے گر گئے وہاں آنحضرت ﷺ اپنی قلیمی قوت اور بلند مقام اور علو درجہ کے باعث اپنی چشم بصیرت سے جلوہ ربانی دیکھنے میں کامیاب ہو گئے۔(تفسیر القرآن العظیم صفر۹۵-۹۲ از حضرت تستری ناشر الكب العربية الكبرى از مصر سال اشاعت (۱۳۲۹ھ) آپ نے اپنی تفسیر میں سدرۃ استھی سے مراد وہ مقام لیا ہے جہاں سب علوم انتہا تک پہنچتے ہیں۔قطب دوران غوث اعظم حضرت سید عبد القادر جیلانی کا یہ شعر زبان زد خلائق ہے اب قوسین سیدی على منبر التخصيص في حضرت المجدي میرے آقا نے مجھے کو قاب قوسین کے مقام پر بٹھایا ، اس منبر خاص پر جو دربار مسجد میں ہے۔لکھا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت شیخ قلندر علی شاہ سہروردی نے بر سر محفل فرمایا کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سیر معراج کا عالم رویا میں مشاہدہ کیا ہے۔( علم لدنی یا علم الہی از سید محمد ریاض الدین سهروردی صفحہ 103 بحوالہ ”سیرت النبی بعد از وصال النبی جلد چہارم صفحہ 218 مؤلفہ محمد عبدالمجید صدیقی ایڈووکیٹ اسلام آباد۔ناشر فیروز سنز - 1998ء) حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کے ملفوظات فوائد الفواد میں ہے کہ آپ نے ایک بار فر مایا کہ ایک بزرگ نے کہا ہے میں نہیں جانتا کہ آیا شب معراج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرش وکری اور بہشت و دوزخ کے پاس لے جایا گیا یا یہ سب چیزیں وہاں پہنچا دی گئیں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رونق افروز تھے۔یہ بتانے کے بعد حضرت نظام الدین اولیاء نے ارشاد فرمایا کہ اگر یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یہ سب چیزیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے