معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 11
11 اشارہ مقصود ہے ازاں بعد بعبدہ کا لفظ ہے اور بالکل یہ لفظ اللہ جلشانہ، نے سورہ نجم آیت ۱۱ میں ذکر کر کے کیفیت معراج پر بایں الفاظ روشنی ڈالی ہے کہ فاوحی الی عبده ما اوحی ، یعنی اُس نے اپنے بندے کی طرف وہ وحی کیا جو وحی کیا سورہ بنی اسرائیل ہی میں جناب الہی نے معراج کو الرؤیا قرار دے کر سب حقیقت کھول دی۔کیونکہ قرآن کی مشہور لغت " مفردات امام راغب کے مطابق رویاء کے معنی صرف اور صرف خواب کے ہیں (مایری فی المنام)۔حضرت امام الحافظ ابن حجر عسقلانی (۵۷۷۳ - ۸۵۲ھ) نے صحیح بخاری کی شہرہ آفاق شرح فتح الباری کتاب التفسیر (سورہ اسراء) میں زبان عربی کے چوٹی کے فاضل وادیب علامہ تریری کا یہ قول نقل کیا ہے انما یقال رؤیا فی المنام و اما التي في اليقظه فيقال رؤية - ان طرح واضح لفظوں میں انکشاف فرمایا گیا کہ سفر معراج کا محبط آنحضرت ﷺ کا قلب مبارک تھا جو عالم باطن در باطن کا مسلمہ مرکز ہے اور نبیوں کی رویاء کے وحی ہوتے پر پوری امت کا اجماع ہے ( بخاری۔ترندی - تفسیر کبیر - تفسیر مدارک مدارج السالکین ) اس ضمن میں یہ واضح کر کے دن چڑھا دیا کہ "ماكذب الفواد مارای (النجم ) یعنی دل نے جھوٹ بیان نہیں کیا جو اس نے دیکھا۔قرآن کریم کا یہ بھی کمال ہے کہ اس نے "عبدہ کہہ کر آنحضرت ﷺ کو عبودیت کے بلند ترین منصب پر ممتاز فرمایا اور ساتھ ہی بار بار بتایا کہ جس طرح خدا زمین و آسمان کا نور ہے اسی طرح آپ کی شان عبود بیت اس درجہ ارفع اور اعلیٰ ترین مقام تک پہنچ چکی ہے کہ آپ بھی سرتا پا نور بن گئے ہیں۔چنانچہ سورہ مائدہ آیت ۱۵ میں قد جاء کم من الله نور “ کی منادی کی گئی ہے اور یہی نہیں اس سبحان خدا نے جس نے آپ کو سیر معراج کرائی۔آپ کو سورج سے تشبیه دیگر اعلان عام فرمایا ہے کہ آنحضرت کی ذات اقدس نہ صرف مجسم نور ہے بلکہ آنحضرت کی قوت قدی آپ سے وابستہ ہر اک کو نور بنا دیتی ہے۔قرآن مجید نے شان عبودیت کی اس جلوہ گری کو ایک اور رنگ میں بھی بے نقاب کیا ہے چنانچہ خاتم الکتب نے موسوی شریعت کے آخری نبی حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو " کی " کہا ہے، وہاں خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ جمعہ میں ”مز کی یعنی زکی بنا دینے والے عظیم نبی کی حیثیت سے پیش فرمایا ہے اور یہ بھی