معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 10 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 10

10 آسمان پر چڑھ جانے کا مطالبہ کیا جس پر خالق کائنات کا شاہی فرمان نازل ہوا۔قل سبحان ربي هل كنت الا بشراً رسول" (آیت ۹۳) حضرت مسیح موعود کے مبارک الفاظ میں اس کا ترجمہ یہ ہے کہ " کہہ دے میرا رب پاک ہے۔میں تو ایک انسان رسول ہوں۔انسان اس طرح اٹھ کر کبھی آسمان پر نہیں جاتے۔یہی سنت اللہ قدیم سے جاری ہے ( الحکم ۱۷ جون ۱۹۰۶، صفحہ ۴) حال ہی میں جلالت الملک شاہ فہد بن عبد العزیز کی طرف سے سعودی حکومت نے قرآن کریم مع اردو ترجمہ و تفسیر شائع کیا ہے جس کے صفحہ ۷۹۲ میں آیت کی تفسیر میں لکھا ہے ”جہاں تک میرا تعلق ہے میں تو تمہاری طرح ایک بشر ہی ہوں۔کیا کوئی بشر ان چیزوں پر قادر ہے؟“ بہر حال حضرت مسیح موعود کی بیان فرمودہ یہ صداقت ہمیشہ جگمگاتی رہے گی۔۔مجمع البحرین علم و معرفت جامع الامین ابر خاورے سالکان را نیست غیر از وے امام زہرواں را نیست جزوے رہبر ہے عالم باطن در باطن کا غیر فانی شاہکار اب تک ہم نے قرآن مجید کی روشنی میں عالم ظاہر و باطن یعنی سائنس کے اعتبار سے آنحضرت ﷺ کے لائے ہوئے علمی کمالات پر روشنی ڈالی ہے۔اب قرآن مجید ہی کی رہنمائی سے عالم باطن در باطن کے ایک غیر فانی شاہکار کا ذکر کرتے ہیں۔ہماری مراد آنحضرت ﷺ کی عدیم النظیر سیر نورانی یعنی معراج سے ہے۔جو وحی الہام اور کشف کے انوار و برکات سے اس طرح لبریز ہے جس طرح آسمان ستاروں سے اور سمندر پانی کے قطروں سے پر ہیں۔قرآن مجید اور معراج کا نورانی سفر کتاب اللہ کا علمی معجزہ دیکھئے کہ سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں معراج کا بیان ہی سبحان“ کی صفت سے ہوا ہے جس میں آیت سبحان ربی هل كنت الا بشراً رسولا " كى طرف