معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 9
9 قوت و شوکت سے پیش کرتی آرہی ہے جس پر جماعتی لٹریچر گواہ ہے۔مثال کے طور پر یہ ذکر کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ دسمبر ۱۹۵۷ء میں سید نا مصلح موعود ی " تفسیر صغیر' منظر عام آئی جس کے حواشی میں مذہب اور جدید سائنس کے علوم کی نسبت قرآن کی بے شمار آیات سے حیرت انگیز رنگ میں استنباط کیا گیا ہے جس کے اندازہ کیلئے تفسیر صغیر کے انڈیکس پر سرسری نظر ڈالناہی کافی ہے۔(ای نقطہ نگاہ سے حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے ترجمہ قرآن کا مطالعہ ضروری ہے) امریکن خلانوردوں کی گاڑی پہلی بار ۲۰ جولائی ۱۹۶۹ء کو چاند پر پہنچی مگر حضور انور نے تفسیر صغیر میں چودہ سال قبل قرآن کی روشنی میں واضح فرما دیا کہ قرآن نے کائنات کی دوسری مخلوق سے رابطہ کی بھی خبر دی ہے اور سورہ رحمن میں بتایا گیا ہے کہ راکٹ زیادہ سے زیادہ ان سیاروں تک پہنچ سکیں تھے جو زمین سے کھلی آنکھ سے نظر آتے ہیں (اور وہ بھی زمین ہی کے ماحول کو اپنے ساتھ وابستہ کر کے ) چنانچہ آیت و اذ الارض مدت (الانشقاق:۴) کی تفسیر کرتے ہوئے تحریر فرمایا: یعنی اس زمانہ میں یہ ثابت ہو جائے گا کہ بہت سے کرے جو بظا ہر آسمان کے ساتھ وابستہ نظر آتے ہیں وہ زمین کا حصہ ہیں جیسے چاند اور مریخ وغیرہ۔یہ سائنس کا انکشاف اس زمانہ میں ہوا ہے پہلے نہیں ہوا تھا بلکہ مزید بات یہ ہے کہ ان گروں کو زمین کا حصہ سمجھ کر بعض لوگ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ راکٹ کے ذریعہ ان تک پہنچ جائیں یا اُن کو بھی رہائش کے لحاظ سے زمین کا ہی حصہ ثابت کر دیں۔اگر یہ ہو جائے یا لبعض لحاظ سے چاند اور دوسرے کروں سے ایسے فائدے اٹھائے جاسکیں جس سے زمین متمتع ہو تو اس کا مفہوم یہی ہوگا کہ زمین پھیل گئی ہے۔" قرآن مجید نے قیامت تک کے لئے آنحضرت ﷺ کا ایک ایسا واقعہ ریکارڈ فرمایا ہے جو مشہور عالم سفر معراج کے بعد پیش آیا اور بتایا سائنس خواہ کتنی ترقی کر لے ، قیامت تک اس میں بیان فرموده صداقت کو غلط ثابت نہیں کر سکے گا کیونکہ وہ چٹان کی طرح غیر متزلزل ہے۔یہ واقعہ سورہ بنی اسرائیل آیت ۷۳ میں مذکور ہے اور وہ یہ کہ قریش مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے