مذہب کے نام پر فسانہ — Page 57
//////// مرید جان و مال اس پر قربان کئے بیٹھے ہیں ) یہ جوش آجائے کہ اس پیشگوئی کو پورا کیا جائے اور وہ کوئی فتنہ و بغاوت برپا کریں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزا جی نے مسلمانوں کو نصاری سے سخت بدظن اور مشتعل کر رکھا ہے۔وہ دجال سمجھتے ہیں تو نصاری کو خرد جال کہتے ہیں تو ریلوے کو اب سوال یہ ہے کہ یہ ریلوے کس نے جاری کر رکھی ہے؟ جب یہ خرد جال ہے تو اس کے چلانے والے بادشاہ وقت کو ہی یہ دجال کہتے ہیں اور مسلمانوں کو اس کے برخلاف سخت مشتعل کر رہے ہیں۔گورنمنٹ کو ایسے اشخاص کا ہر وقت خیال رکھنا چاہئے۔‘، ۷۳ آہ! یہ کتنا بڑا حادثہ ہے کہ یہ خدا نا ترس علماء انگریزی دور حکومت میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو واضح الفاظ میں باغی قرار دیتے تھے مگر اس کے برعکس اب آپ کو برطانوی استعمار کے ایجنٹ ۴ کے اور انگریزی نبی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔الغرض جس زاویہ نگاہ سے بھی تحقیقی نظر ڈالی جائے اس حقیت میں کوئی شبہ نہیں رہ جا تا کہ مذکورہ پمفلٹ اکاذیب و اباطیل کا مجموعہ اور دجل وتلبیس کا بدترین نمونہ ہے اور دل گواہی دیتا ہے کہ نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کسر صلیب بانی سلسلہ احمدیہ پر اور جھوٹ احراری دیو بندی ملاؤں پر ختم ہے۔احرار کی اس جھوٹی کہانی نے انگریز مورخ ہالویل (HOLWELL) کے اس افسانہ کی یاد تازہ کر دی ہے جو اس نے ۱۷۵۷ء کے شروع میں انگلستان جاتے ہوئے تراشہ تھا اور جسے کلکتہ کے ”بلیک ہول ۵ کے کا نام 57