مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page 56 of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page 56

کوئی آفت سلطنت میں برپا کیا کرتے ہیں۔مسلمان تو یہ زمانہ مہدی و مسیح کا قرار ہی نہیں دیتے کیوں کہ یہ امن اور انصاف و عدل کا زمانہ ہے اور خلق خدا کو ہر طرح سے اس سلطنت کے سایہ میں امن اور آسائش حاصل ہے۔اور مہدی اور مسیح کے آنے کی جب ضرورت ہوگی کہ عنان سلطنت سخت ظالم اور جفا پیشہ بادشاہ کے ہاتھ میں ہوگی اور روئے زمین پر کشت و خون اور فتنہ و فساد کا طوفان برپا ہوگا۔اس وقت اس کی ضرورت ہوگی کہ الہ العالمین اپنی مخلوق کی حفاظت اور آسائش دامن گستری کے لئے کسی انصاف مجسم امام بادشاہ اسلام (مهدی و سیح) کو مبعوث فرمائیں لیکن مرزا جی نے تو مسلمانوں میں یہ خیال پیدا کر دیا ہے کہ مہدی ومسیح کا یہی زمانہ ہے اور قادیاں ضلع گورداسپور میں وہ مہدی ومسیح بیٹھا ہوا ہے۔وہ کسر صلیب کے لئے مبعوث ہوا ہے تا کہ عیسویت کو محو کر کے اسلام کو روشن کرے اور یہ بھی برملا کہتا ہے کہ خدا نے اسے بتلا دیا ہے کہ سلطنت بھی اسی کو ملنے والی ہے چنانچہ اس نے اپنی متعدد تصانیف میں یہ الہام و کشف سنایا ہے کہ خدا نے اسے بتلا دیا ہے کہ بادشاہ اس کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔بلکہ یہ بھی لکھ دیا ہے کہ وہ بادشاہ اسے دکھائے بھی گئے ہیں۔اور یہ بھی کہتا ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہت مرزائیوں کو ملے گی کیا عجب کہ ایک زمانہ میں مرزائیوں کو جو اس کی پیشن گوئیاں پورا کرنے کے لئے اپنی جانیں دینے کو تیار ہیں جیسا کہ اپنے بیان میں وہ لکھ چکا ہے کہ اس کے 56