مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page 37 of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page 37

66 متحد القلوب ہیں۔‘، ۴۲ ملک گیر امن و آشتی کے اس ماحول میں برطانوی حکومت کے لئے انتشار کا منصوبہ بنانے والے انگریز اور عیسائی پادری ہر گز نہیں ہو سکتے۔لہذا مزعومہ رپورٹ بدیہی طور پر وضعی اور جعلی ہے۔بارہواں جھوٹ ۱۸۷۰ء میں متحدہ ہندوستان کے لئے پادریوں کو کسی نئی سکیم کے تجویز کرنے اور اس پر غور کرنے کے لئے انہیں لنڈن بلانے کا خیال بھی مجسم جھوٹ ہے۔کیونکہ عیسائی مشنری پہلے دن سے ایک ہی بنیادی منصوبہ لے کر ہندوستان کے کونے کونے میں جال پھیلا رہے تھے اور وہ منصوبہ تھا پورے ہندوستان خصوصاً مسلمانوں کو حلقہ بگوش عیسائیت کرنا اور پادری ای ایڈ منڈ کی طرف سے ۱۸۵۷ء کے دوران ملک بھر میں جو چٹھی شائع ہوئی اس میں کھلے لفظوں میں اس کا ذکر موجود تھا۔چٹھی کے اختتام میں لکھا تھا۔”ہماری تمنا ہے کہ اس ملک میں گر جاؤں کو ہندوستانیوں سے بھرا ہوا دیکھیں جہاں نہ صرف غیر ملک کے لوگ بلکہ تمہارے ہم وطن بھی انجیل کی خوشخبری کی باقاعدہ طور سے منادی کریں۔۔۔ہم اس وقت کے آنے کی خواہش کرتے ہیں جب کہ لوگ بخوبی اس کو سمجھ جائیں گے۔کیوں نہ اسی نسل میں یہ بات ہو۔“ سرسید احمد خاں نے اپنی کتاب ” اسباب بغاوت ہند کے آخر میں پوری چٹھی کا ترجمہ شائع کر دیا تھا۔یہ وہی رسالہ ہے جس کا ذکر کرتے ہوئے سید طفیل احمد منگلوری 37