مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page 38 of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page 38

نے لکھا ہے کہ ///////////// سرسید احمد خان اس وقت سرکاری ملازم تھے انہوں نے ہنگامہ ۱۸۵۷ء میں نہ صرف مسلمانوں کی بلکہ کل اہل ہند کی مدافعت میں پوری جدوجہد کی۔اسباب بغاوت ہند لکھ کر بجائے ہندوستانیوں کے خود حکام وقت کو ہنگامہ ۱۸۵۷ء کا ذمہ دار قرار دیا اور رسالہ ”وفا دار مسلمانان ہند“ لکھ کر صد ہا مسلمانوں کی جانیں اور جائدادیں بچائیں۔“ ( روح روشن مستقبل صفحہ ے ناشر مکتبہ شیخ الاسلام لغاری روڈ رحیم یارخان ) غدر کے چھ سال بعد ۱۸۶۲ء میں انگلستان کے وزیر اعظم لارڈ پا مرسٹن اور وزیر ہند چارلس وڈ کی خدمت میں ایک وفد پیش ہوا جس میں دارالعوام اور دارالامراء کے رکن اور دوسرے بڑے بڑے لوگ شامل تھے۔انگلستان کے سب سے بڑے پادری آرچ بشپ آف کنٹر بری نے اس وفد کا تعارف کرایا۔وزیر ہند نے اس وفد سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ:۔”میرا یہ ایمان ہے کہ ہر وہ نیا عیسائی جو ہندوستان میں عیسائیت قبول کرتا ہے انگلستان کے ساتھ ایک نیا رابطہ اتحاد بنتا ہے اور ایمپائر کے استحکام کے لئے ایک نیا ذریعہ ہے۔“ ۱۴۳ ،، وزیر اعظم لارڈ پامرسٹن نے یہ بھی کہا کہ:۔میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب اپنے مقصد میں متحد ہیں۔یہ ہمارا فرض ہی نہیں 38