مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page 26 of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page 26

///////// ساتواں جھوٹ لکھا ہے کہ ۱۸۶۹ء میں انگریزوں نے ایک کمشن لندن سے ہندوستان بھیجا تا کہ وہ انگریز کے متعلق مسلمان کا مزاج معلوم کرے اور آئندہ کے لئے مسلمانوں کو رام کرنے کے لئے تجاویز مرتب کرے۔اس کمشن نے ایک سال ہندوستان میں رہ کر مسلمانوں کے حالات معلوم کئے۔“ پمفلٹ میں اس کمشن کا سر براہ سر ولیم ہنٹر (Sir William Hunter) کو قرار دیا گیا ہے۔یہ سارا بیان محض ذہنی تخیل کی ایجاد ہے۔انگلستان اور برطانوی ہندوستان کی تاریخ میں اس نوع کے کسی کمشن کا نام ونشان نہیں ملتا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ سرولیم ہنٹر ( ولادت ۱۵ جولائی ۱۸۴۰ء وفات ۶ فروری ۱۹۰۰ء ) جنہیں اس فرضی کمشن کا سر براہ بتایا جاتا ہے۔۱۸۶۲ء میں انگلینڈ سے ہندوستان پہنچے اور بنگال سول سروس سے منسلک ہوئے اور ۱۸۸۷ء تک ہندوستان ہی میں رہے اور اسی سال ریٹائر ہوکر انگلینڈ واپس گئے۔چنانچہ کتاب "THE NEW CENTURY CYCLOPEDIA OF NAMES" میں لکھا ہے۔"Hunter, Sir William Wilson, b at Glasgow, July 15, 1840:d۔at Oxford, England, Feb۔6,1900۔British civil servent and author۔He entered the Bengal civil service in 1862, holding various 26