مذہب کے نام پر فسانہ — Page 13
چڑھ گئے اور جیل خانہ تو ڑ کر چوراسی افسر جو قید تھے ان کو قید سے نکال لائے اور ان کی ہتھکڑیاں اور بیٹریاں سب کاٹ لیں اور ان کے ہمراہ جو اور بدمعاش بد پیشہ چونٹے اٹھائی گیرے ڈاکو خونی ، ٹھگ وغیرہ وغیرہ جو جیل خانہ میں قید تھے سب کو رہا کر دیا اور بیٹریاں سب کی کاٹ دیں۔اب تمام شہر میں غدر مچ گیا اور ہنگامہ جدال و قتال گرم ہوا۔۱۲۱۱ ان غارت گروں میں وہ لوگ ہیں جو میرٹھ سے باغی ہو کر پلٹن اور سوار آتے ہیں اور ان کے ساتھ والے جو بد معاش ہمراہ ہوئے ہیں۔اور ان کے شہر کے کوئی چمار دھوبی سے کنجڑے، قصاب کاغذی محلہ کے کاغذی اور دیگر بدمعاشان شہر پہلوان، بانڈی باز اٹھائی گیرے جیب کترے وغیرہ وغیرہ سب رذیل ہیں۔کوئی شریف خاندانی ان کے شامل نہیں ہے جو نیک معاش واشرف ہیں وہ اپنے گھروں کے دروازے بند کئے بیٹھے ہیں ان کو یہ خبر تک نہیں کہ شہر میں کیا ہو رہا ہے۔66 دوسرا جھوٹ بہادر شاہ ظفر نے اس مقدس جہاد میں حصہ لیا۔یہ دعویٰ بھی سراسر دروغ بے فروغ ہے۔چنانچہ بادشاہ نے دیوان خاص قلعہ دہلی میں ۹؍ مارچ ۱۸۵۸ء کو عدالت کے سامنے یہ حلفیہ بیان دیا کہ۔13