مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page 14 of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page 14

////// ///// /////// ” جو کچھ گزرا ہے وہ سب مفسدہ پرداز فوج کا کیا دھرا ہے۔میں ان کے قابو میں تھا اور کر کیا سکتا تھا۔وہ اچانک آپڑے اور مجھے قیدی بنالیا۔میں لاچار تھا اور دہشت زدہ جو انہوں نے کہا میں نے کیا۔وگرنہ انہوں نے مجھے کبھی کا قتل کر ڈالا ہوتا۔‘، ۱۳ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ شاہ ظفر کے بیان سے قبل مورخہ ۱۲ فروری ۱۸۵۸ء عدالت کو شاہ کی موجودگی میں بتایا گیا کہ ۱۸۰۳ء میں جب شاہ عالم شہنشاہ دہلی مرہٹوں کے دست ستم کا آماجگاہ بنے ہوئے تھے انہوں نے جنرل لیک صاحب سے انگریزی گورنمنٹ کے سایہ عاطفت میں آنے کی درخواست کی اور ۴ استمبر سے برطانیہ کے پنشن خوار اور رعایا بن گئے۔اور برطانوی حکمرانوں نے انہیں مرہٹوں کے ظلم اور قید بامشقت سے چھڑا کر عیش و آرام عطا کیا۔نیز بتایا گیا کہ شاہ ظفر نے ۱۸۳۷ء سے دہلی کی فرضی حکومت حاصل کی لیکن ان کا اقتدار خاص قلعہ والوں پر بھی نہیں تھا البتہ اپنے مقربین کو خلعات فاخرہ اور خطابات دینے کی طاقت تھی۔وہ اور ان کے اہل خاندان بے شک لوکل کورٹس سے بری تھے لیکن گورنمنٹ انگلشیہ کے زیر نگیں تھے۔گورنمنٹ کی طرف سے ان کا ایک لاکھ روپیہ ماہوار وظیفہ مقرر تھا۔جس میں سے ننانوے ہزار روپیہ دلی میں اور ایک ہزار لکھنو میں ان کے اہل خاندان کو ملتا تھا۔نیز سر کاری اراضی سے ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ وصول کرنا بھی منظور تھا اور دہلی کے مکانات کا کرایہ اور زمین کا معاوضہ بھی لیتے تھے۔(شاہ ظفر نے جرح سے انکار کیا ) تیسرا جھوٹ مستند علماء اسلام کا اس ہنگامہ میں باغیوں کی قیادت کرنا محض جھوٹی کہانی ہے جس کا 14